{"title":"Urdu Novel","description":"","products":[{"product_id":"گریز-عزیز-احمد","title":"گریز | عزیز احمد","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eابھی تک آدمی محض اس ایک چیز کو فتح نہیں کرسکا۔موت کو۔یہ اس کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔موت اس کے تمام آلام کا راز ہے۔اگر موت نہ ہوتی تو قومیں جنگ نہ کرتیں۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eموت نہ آنے والی ہوتو بڑھاپا بھی نہ آئے۔اگر انسان موت پر فتح پالے تو وہ بڑھاپے کی ضعف کو بھی شکست دے دے گا۔زندگی کی رو انسان کے جسمانی زوال کو اس قدر مدھم کردے گی کہ جتنے برسوں میں انسان اب بڈھا ہو جاتا ہے،اسے بڈھا ہونے میں اتنی ہی صدیاں لگیں گی۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eعزیز احمد کے ناول \"گریز\" سے اقتباس\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249244070187,"sku":"","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230419_132315.jpg?v=1685471964"},{"product_id":"ایسی-بلندی-ایسی-پستی-ہوس-عزیز-احمد","title":"ایسی بلندی ایسی پستی ہوس | عزیز احمد","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایسی بلندی ایسی پستی ہوس | عزیز احمد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات:272\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249244135723,"sku":"","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230417_195255.jpg?v=1685471953"},{"product_id":"سب-رس-ملاوجہی","title":"سب رس ملاوجہی","description":"\u003cspan\u003eملا وجہی کا شمار دکن میں اردو کے ابتدائی مصنفین میں ہوتا ہے ۔ان کی داستان سب رس کو اردو کی قدیم اور قابل ذکر داستانوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ملاوجہی کو اردو ،فارسی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وجہی کے زمانے میں اردو ترقی یافتہ شکل میں نہیں تھی۔انہوں نے اسے عام بول چال کی زبان کی سطح سے اٹھا کر ادبی زبان بنانے کی اولین کوشش کی۔ان کی کتاب سب رس عشق و محبت کی داستاں ہونے کے ساتھ ساتھ پند و نصائح کا مرقع ہے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف نے قاری کی تفریح طبع کے ساتھ ساتھ داستاں میں اخلاقیات کی پاس داری اور مقصدیت کا بھی لحاظ رکھا ہے۔\u003c\/span\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249244660011,"sku":"","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230415_161924.jpg?v=1685471857"},{"product_id":"ناول-دوسری-برف-باری-سے-پہلے-کرشن-چندر","title":"ناول: دوسری برف باری سے پہلے | کرشن چندر","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناول: دوسری برف باری سے پہلے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: کرشن چندر\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249246462251,"sku":"","price":575.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230415_162638.jpg?v=1685471653"},{"product_id":"شکست-کرشن-چندر","title":"شکست |  |کرشن چندر","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan\u003eشکست | ناول\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eناول نگار: کرشن چندر\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e’’سچ ہے محبت کو بھی روٹی کی حاجت ہے۔ محبت بھی چاہے وہ کتنی ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو، محض خالی خولی ہم بستری کے سہارے نہیں جی سکتی۔ عشق کو بھی روٹی چاہیے۔‘‘\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eکرشن چندر | شکست\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاُس شعلے کے نام جسے میں کبھی چھو نہ سکا\u003cbr\u003eاُس پھول کے نام جو کبھی نگاہ نہ ہوا\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eانتساب | شکست\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکم سے کم ایک اُردو ناول ترقی پسند تحریک نے ایسا پیدا کیا جو اُردو زبان کے بہترین ناولوں میں شمار کیے جانے کا مستحق ہے، یہ ناول کرشن چندر کا ’’شکست‘‘ہے۔\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003e(عزیز احمد)\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eبرسوں ہوئے میں ایک بار گُل مرگ گیا اور وہاں ایک ہوٹل میں ٹھہرا تو اُس کے منیجر نے بتایا کہ کرشن چندر نے اُس ہوٹل کے ایک کمرے میں اپنا ناول ’’شکست‘‘ مکمل کیا تھا۔ مَیں نے کہا، مجھے وہ کمرہ تو دکھائو۔ اُس کمرے میں دو کھڑکیاں تھیں۔ میںنے ایک کھڑکی کھولی تو سامنے ایک بالکنی تھی (اس بالکنی کی کہانی وہ لکھ چکا ہے) اور اس بالکنی میں سے گُل مرگ کی سرسبز وادی اور کھلن مرگ کی برفیلی چوٹیوں کا حسین منظر دکھائی دیا۔ لیکن دوسری طرف کی کھڑکی کھولی تو دیکھا کہ ہوٹل کا پچھواڑا ہے، جہاں کُوڑا کباڑ پڑا ہے، گھورے کے ڈھیر ہیں، اُن پر بھنبھناتی مکھیاں ہیں، ہوٹل کا ’’کالو بھنگی‘‘ صاحب لوگوں کے کموڈ صاف کر رہا ہے اور ہوٹل کے بیروں کی چھوٹی چھوٹی گندی اندھیری کوٹھریاں ہیں اور مَیں نے محسوس کیا کہ یہ دو کھڑکیاں کرشن چندر کے کمرے ہی میں نہیں اُس کے دل اور دماغ میں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ ایک کھڑکی میں سے وہ قدرت اور زندگی کا حُسن دیکھتا ہے اور اُس کا شاعرانہ تخیل جھوم اُٹھتا ہے اور دوسری کھڑکی میں سے وہ انسان کی حالت دیکھتا ہے جو چاروں طرف پھیلے ہوئے قدرتی حُسن اور قدرت کی فیاضی کے باوجود غربت، لاچاری، گندگی اور بیماری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور اُس کا درد آشنا دل دُکھ ہی سے نہیں، غصے سے بھر جاتا ہے۔ ان دونوں کھڑکیوں میں سے دکھائی دینے والے نظاروں کے تضاد نے کرشن چندر کی شخصیت، اُس کے نظریے، اُس کے اسٹائل اور اُس کے آرٹ کی تشکیل کی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003e(خواجہ احمد عباس)\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eکتاب: شکست (ناول)\u003cbr\u003eناول نگار: کرشن چندر\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eضخامت: 336 صفحات\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249248657707,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230415_162758.jpg?v=1685471524"},{"product_id":"ٹیڑھی-لکیر-عصمت-چغتائی","title":"ٹیڑھی لکیر | عصمت چغتائی","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eٹیڑھی لکیر ، عصمت چغتائی کا ایسا شاہکار ناول ہے جس میں انہوں نے سوانحی انداز اپنایا ہے۔ اس ناول میں ہیروئین شمن کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کے دلچسپ واقعات کو ڈرامائی انداز میں یوں پیش کیا گیا ہے کہ کردار نگاری پلاٹ اور قصے پر بھاری پڑ گئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249250722091,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230415_162705.jpg?v=1685471404"},{"product_id":"ایک-گدھے-کی-سر-گزشت-کرشن-چندر","title":"ایک گدھے کی سر گزشت | کرشن چندر","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسوچا ہے رات کو سونے سے پہلے \"ایک گدھے کی سر گزشت\" سے ایک اور اقتباس دوستوں کی نذر کردوں\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔ یہ جو میں پڑھنا بولنا سیکھا ہوں ، اسے سید صاحب کی کرامت سمجھئے یا ان کی مہربانی کا نتیجہ ۔ کیونکہ سید صاحب کو اخبار پڑھتے ہوئے خبروں پر بحث کرنے اور کتاب زور زور سے پڑھنے اور پڑھتے ہوئے اس پر تنقید کرنے کی عادت تھی ۔ یہاں جس جگہ پر وہ کوٹھی تعمیر کرا رہے تھے۔ انہیں کوئی ایسا نہ ملا جس سے وہ ایسی بحث کر سکتے ۔ یہاں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف تھا ۔ میں ہی ایک گدھا انہیں ملا مگر اس سے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eانہیں بحث نہ تھی ۔ وہ دراصل گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ اپنی دل ودماغ کی باتیں کسی سے کہنا چاہتے تھے۔ گدھے کے بجائے ایک خرگوش بھی ان کی صحبت میں رہتا تو عالم فاضل بن جاتا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسید صاحب مجھ سے بڑی ملاطفت سے پیش آتے تھے اور اکثر کہا کرتے:\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"افسوس کہ تم گدھے ہو۔ اگر آدمی کا بچہ ہوتے تو میں تمہیں اپنا بیٹا بنا لیتا۔\"\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسید صاحب کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ خیر صاحب کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن سید کرامت علی شاہ کی کوٹھی تیار ہو گئی اور میرے مالک کو اور مجھے بھی اسی دن وہاں کے کام سے جواب مل گیا۔ اسی رات دھنو کمہار نے تاڑی پی کر مجھے ڈنڈے سے خوب پیٹا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ اور کھانے کے لئے گھاس بھی نہ دیا۔ میرا قصور یہ بتایا کہ میں اینٹیں کم ڈھوتا تھا اور اخبار زیادہ پڑھتا تھا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاور کہا کہ:\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"مجھے تو اینٹیں ڈھونے والا گدھا چاہئے، اخبار پڑھنے والا گدھا نہیں چاہئے۔\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایک گدھے کی سر گزشت | کرشن چندر\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249254785323,"sku":"","price":580.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20230415_162811.jpg?v=1685471076"},{"product_id":"ایک-عورت-ہزار-دیوانے-کرشن-چندر","title":"ایک عورت ہزار دیوانے | کرشن چندر","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایک عورت ہزار دیوانے:\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eپچھلے تین چار ماہ سے کتابوں سے بنا ہوا تعلق انقطاع کا شکار تھا طبیعت بھی نہیں بن پا رہی تھی کہ بندہ فرصت کی دو گھڑی میں چند لحظے بیٹھ کر کچھ ورق گرادنی کرے خیر جیسے تیسے کرکے وقت ملا تو اس سال کی سب سے پہلی خریدی ہوئی کتاب نکال بیٹھا الحمدللہ ایک ہی نشست میں کتاب بخیر و عافیت اختتام تک پہنچ گئی،\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکرشن چندر کو زمانہ طالبعلمی سے پڑھتے آرہے ہیں ابھی ہم نئے نئے پڑھنا شروع کیا تھا تو اسی وقت کرشن چندر کے ایک افسانے کالو بھنگی کا کچھ حصہ سوشل میڈیا پر پڑھنے کا \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eاتفاق ہوا تو اسے پورا پڑھنے کا اشتیاق پیدا ہوا بعد میں اسی افسانے کو کہی بار افسانوں کے مجموعے میں پڑھنے کی سعادت شامل حال رہی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eافسانے کا ( لنک پہلے کمنٹ میں ہے) یہ ایک زندہ جاوید افسانہ ہے کرشن چندر کے افسانوں اور ناولوں میں سب سے زیادہ متائثر (غدار ناول) نے کی ہے اسکے بعد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e( جب کھیت جاگے) اس کے بعد افسانہ کچرا بابا افسانہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسڑک واپس جاتی ہے اور بھی انکے ان جیسے کہی شاہکار ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید ہیں،\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eآج ایک بار پھر کرشن چندر کو پڑھنے کا اتفاق ہوا ناول مختصر ہے کل 150 صفحات ہونگے کہانی بہت ہی جاندار ہے ایک لاچی نامی لڑکی کی کہانی جسکی تعلق ایک خانہ بدوش قبیلے سے ہے خانہ بدوشوں کی نہ اپنی کوئی بستی ہوتی ہے نا اپنا گھر نہ کوئی ملک لاچی بھی ایسی ایک خانہ بدوش لڑکی ہے،\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجسے اسکی بچپن میں اسکے باپ نے ماں سمیت جوے میں ہار بیٹھا ہے اسی طرح جس نے اسے جوے میں جیتا ہے وہ بھی اسکی ماں کے ساتھ مل کر کچھ ہی روپیوں کے عوض لاچی کو بیچ ڈالتا ہے یہاں اس کہانی میں کتنے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے چہرے ہیں کتنے ہی مدد کو بڑھنے والے ہاتھ کتنے لہجوں سے رستے ہوئے سم قاتل ہیں جنکا مقصد بس ایک ہی کتنے جابجا کسے گئے جملے ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eآپ وقت نکال کر اس کتاب کو ضرور ایک بار پڑھ لیجئے گا تو آپ کے ارد گرد بسنے والے کہی چہرے آپکے سامنے نمودار ہوتے جائیں گے بس فلحال کیلئے یہ چند ٹوٹے پھوٹے جملوں کو شرف قبولیت بخشیں مہربانی ہوگی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eزندگی رہی تفصیلی پوسٹ لکھ دیں گے کسی دن __________ \u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/irfaan.balooch.5?__cft__%5B0%5D=AZWU9i3UJLrgLSwfdKwV64L933GeM_0tekQe8B_UUVclMhihs-OFmuSOx29-1bK9bxSY9X6EYRnQxQ805QLwCkYaiG-m6Jj4Eyjcmg9OP7RBPg\u0026amp;__tn__=-%5DK-R\" class=\"x1i10hfl xjbqb8w x6umtig x1b1mbwd xaqea5y xav7gou x9f619 x1ypdohk xt0psk2 xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1a2a7pz xt0b8zv x1qq9wsj xo1l8bm\" tabindex=\"0\"\u003e\u003cspan class=\"xt0psk2\"\u003eIbram Gurg\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003e\u003cimg src=\"https:\/\/static.xx.fbcdn.net\/images\/emoji.php\/v9\/t9f\/2\/16\/1f5a4.png\" alt=\"🖤\" width=\"16\" height=\"16\" referrerpolicy=\"origin-when-cross-origin\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003e\u003cimg src=\"https:\/\/static.xx.fbcdn.net\/images\/emoji.php\/v9\/tac\/2\/16\/1f940.png\" alt=\"🥀\" width=\"16\" height=\"16\" referrerpolicy=\"origin-when-cross-origin\"\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنامور ناول نگار \"کرشن چندر\" کا نیا ناول انتہائی مناسب قیمت میں؛\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناول: ایک عورت ہزار دیوانے\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249257046315,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221018_113810.jpg?v=1685470944"},{"product_id":"انار-کلی-مرزا-حامد-بیگ-anarkali","title":"انار کلی |  مرزا حامد بیگ | Anarkali","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ بات سننے میں تو بڑی عجیب لگ سکتی ہے کہ کسی مصنف نے ایک ناول لکھنے میں 34 سال لگا دئے - مگر جب آپ مرزا حامد بیگ کے ناول \"انار کلی \" کو پڑھتے ہیں تو آپ کو یہ بات عجیب نہیں لگتی .... سولھوی صدی سے لیکر ٢٠١٧ تک پھیلے اس ناول میں مصنف نے وقت کا سفر جیسے طے کیا ہے وہ دیکھنے والی چیز ہے .... یہ ناول اس لئے بھی خاص ہو جاتا ہے کہ یہ اس بات کا آئینہ ہے کہ ایک تخلیق کار کسی ایک موضوع کو گرفت میں لینے کے لئے کس حد تک محنت کر سکتا ہے ...مگر یہ کام ہر کسی کے بس کا نہیں ، ایسا کرنے کے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eلئے اس مصنف کا مرزا حامد بیگ ہونا ضروری ہے .... یہ ایک تحقیقی اور دستاویزی ناول ہے ، جس بیحد خوبصورتی سے ایک کہانی میں پرو دیا گیا ہے ، تحقیقی اور دستاویزی تصنیف کے ساتھ ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ، یہ یا تو ایک کہانی کے طور پر بیان ہی نہیں ہو پاتی اور بکھر جاتی ہے یا پھر مصنف کا سارا زور دستاویزی حقیقت اور اپنی تحقیق کو سامنے لانا ہو جاتا ہے اور تخلیق کہیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے یا پھر وہ اتنا بوجھل ہو جاتی ہے کہ قاری کو اس سے پار پانا مشکل ہو جاتا ہے ، مگر مرزا صاحب نے چھوٹے ، بڑے مکالموں اور narration سے اور بیحد خوش کن نثر میں اس ناول کو بنا ہے کہ قاری اس سے بندھا رہتا ہے .... یہ ناول وقت میں آگے پیچھے اس آسانی سے گردش کرتا ہے کہ کسی بھی ایک جگہ ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کیا ہوا اور کیوں ، ... مجھے اس ناول میں کوئی بھی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس کا ناول سے کیا تعلّق ہے اور اسے کیوں شامل کیا گیا ہے .... یہ نثر اتنی خوبصورت ہے اور اس باریک بنی سے کام لیا گیا ہے کہ ایک ایک منظر تصویر کی طرح آنکھوں کے سامنے چلتا ہے ،...اگر آپ نئی ٹیکنالوجی وی آر سے وققف ہیں تو آپ میری بات کو سمجھ سکیںگے کہ مرزا صاحب کی نثر ایک وی آر ڈیوائس کی طرح کام کرتی ہے جو آپ کو کہانی کے اندر لے آتی ہے ...اب آپ جو پڑھ رہے ہیں وہ صرف قرأت نہیں ہے .... وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے تیر رہا ہے ...اور آپ ان مکالموں کا حصّہ ہیں جو فضا میں گونج رہے ہیں .... جب کہانی میں 27 سال کا وقفہ آیا تو میں یہ سوچتا رہا کہ ناول کا اختتام کیسے ہوگا .... کیا یہ خوبصورت ناول بھی ایک پرانے گھسے پٹے موڑ پر جا کر ٹھہر جائے گا .... مگر جس ہنر مندی سے اس ناول کا اختتام کیا گیا ہے وہ قابل داد ہے .... \" وہ اب گھر چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے - یہ فیصلہ کرنے میں شازی نے کچھ وقت لیا ......... وہ چھوٹے چھوٹے امنگ بھرے قدم اٹھاتی مال روڈ کی جانب چل دی - یہ سوچ کر کہ اس کے تیز چلنے سے شہر یار کہیں پیچھے ہی نہ رہ جائے - \" جیسے ہی آپ یہ پڑھتے ہیں تو آپ کو 27 سال پہلے والا منظر یاد آ جاتا ہے ، جب شازی کہتی ہے \" اتنی دیر ! you took a long time to come this way \"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایک بیحد خوبصورت ناول کے لئے مرزا حامد بیگ صاحب کو بہت بہت مبارک .... یہ ناول آنے والے وقتوں تک یاد رکھا جائے گا ، مجھے اس بات کا پورا یقین ہے ..\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249259340075,"sku":"","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221025_180127.jpg?v=1685470823"},{"product_id":"نولکھی-کوٹھی-nau-lakhi-kothi-ali-akbar-natiq","title":"نولکھی کوٹھی | NAU LAKHI KOTHI  | ALI AKBAR NATIQ","description":"\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003eAuthor:\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/author\/ali-akbar-natiq\" class=\"pointer link-dark-blue\"\u003eALI AKBAR NATIQ\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5 class=\"mb-3 w-100\"\u003ePages: 448\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eCategories:\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/categories\/urdu-literature\" class=\"text-dark-blue author-name\"\u003eURDU LITERATURE\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/categories\/novel\" class=\"text-dark-blue author-name\"\u003eNOVEL\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\n\u003c\/h5\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناول \" نولکھی کوٹھی \"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: علی اکبر ناطق\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" تقسیم ہند پر لکھے گئے بہت سے ناولوں کے برعکس نولکھی کوٹھی کی کہانی ہندو مسلم دشمنی نہیں، کچھ اور ہے۔ یہ انگریز دور کے پنجاب میں شروع ہوتی ہے اور تقسیم کے فسادات کی جھلک دکھاتی ہوئی ضیا دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔ اس کا علاقہ غیر منقسم پنجاب کا وسط یعنی فیروز پور کی تحصیل جلال آباد ہے جو اب بھارت کا حصہ ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناطق کا کہنا ہے کہ ناول کے آدھے سے زیادہ کردار حقیقی شخصیات پر مبنی ہیں۔ کچھ شخصیات اپنے اصلی نام کے ساتھ ناول میں موجود ہیں۔ ناول \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکو انجام تک پہنچانے کے لیے آخر میں ناطق خود بھی سامنے آجاتے ہیں۔!!!\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249262158123,"sku":"","price":1275.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/rozamaraadab_3.png?v=1685470693"},{"product_id":"تلاش-talash-mumtaz-mufti","title":"تلاش | Talash | Mumtaz Mufti","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتلاش | Talash | Mumtaz Mufti\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eپاکستان بننے کے بعد تو اسلام کو استعمال کرنے کا طوفان اُمڈ آیا ۔۔۔۔ آمر نے اپنی آمریت کو مستحکم کرنے کے لیے اسلام کو استعمال کیا ۔۔۔۔ بی بی جمہوریت نے اپنی عظمت قائم کرنے کے لیے اسلام کے نعرے لگاۓ ۔۔۔ سیاستیوں نے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے اسلام کو برتا ۔۔۔۔ مذیبی لیڈروں نے اپنی اہمیت قائم کرنے کے لیے اسلامی روپ دھارا ۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eممتاز مفتی\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e(تلاش\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249327137067,"sku":"","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221123_113807.jpg?v=1683969377"},{"product_id":"بابو-babu-agha-gul","title":"بابو | Babu | Agha Gul","description":"\u003cp\u003eبابو | Babu | Agha Gul\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249328120107,"sku":"","price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/IMG-20221106-WA0009.jpg?v=1683969387"},{"product_id":"نسیم-حجازی-کی-13-بہترین-کتابوں-کا-سیٹ","title":"نسیم حجازی کی  13 بہترین کتابوں کا سیٹ","description":"\u003cp style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eSharif Hussain\u003c\/b\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e (\u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Urdu\" title=\"Urdu\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Urdu\"\u003eUrdu\u003c\/a\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e: \u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"Nastaliq\" dir=\"rtl\" title=\"Nastaliq\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eشریف حسین\u003c\/span\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e), who used the pseudonym \u003c\/span\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eNasīm Hijāzī\u003c\/b\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e (\u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Urdu\" title=\"Urdu\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Urdu\"\u003eUrdu\u003c\/a\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e: \u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"Nastaliq\" dir=\"rtl\" title=\"Nastaliq\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنسیم حجازی\u003c\/span\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e, commonly transliterated as \u003c\/span\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eNaseem Hijazi\u003c\/b\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e or \u003c\/span\u003e\u003cb data-mce-fragment=\"1\"\u003eNasim Hijazi\u003c\/b\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e) (19 May 1914 – 2 March 1996), was an \u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Urdu\" title=\"Urdu\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Urdu\"\u003eUrdu\u003c\/a\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003ca href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Novelist\" title=\"Novelist\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-href=\"https:\/\/en.wikipedia.org\/wiki\/Novelist\"\u003enovelist\u003c\/a\u003e.\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنسیم حجازی کے نام سے شاید ہی کوئی کتب بین انجان ہوں ۔ تاریخی ناولز میں نسیم حجاری کا نام ایک معتبر حیثیت رکھتا ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249333690667,"sku":"","price":20000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Aur-Talwar-Toot-Gaye-scaled-370x540-1.jpg?v=1683969460"},{"product_id":"haju-rama","title":"ہجوراما | Hajorama","description":"\u003cp\u003eHaju Rama\u003cbr\u003e\n\\n\u003cbr\u003e\n\\nBook by Shabbir Ahmed\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249346896171,"sku":"978969562958-1-2-1","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Hajur-Aama-scaled.jpg?v=1683969638"},{"product_id":"makli-mein-margg","title":"مکلی میں مرگ | Makli Mein Marg","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمکلی میں مرگ ( ناول)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمصنف | غافر شہزاد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eصفحات | 207\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249353679147,"sku":"9789695628874","price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Makli--scaled.jpg?v=1683969717"},{"product_id":"dhundlak-dairay","title":"دھند لکے دائرے | Dhund Laky Dairay | Hakeem Abdul Rauf","description":"\u003cp\u003eدھند لکے دائرے\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eحکیم عبدالروف کیانی\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249358168363,"sku":"9789695628638","price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Dhundlky-Dairay-Copy-scaled.jpg?v=1683969767"},{"product_id":"shatan-ki-diary","title":"شیطان کی ڈیرای |  Shaitan Ki Derai","description":"\u003cp\u003eشیطان کی ڈیرای |  Shaitan Ki Derai\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249361936683,"sku":"9789695622537-51221-1","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Evil-book...-Copy-scaled.jpg?v=1683969807"},{"product_id":"سہ-پہرہ-کی-دھوپ","title":"سہ پہرہ کی دھوپ | Sah Phra Ki Dhop","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e__جہاں تک ہو سکے__\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاگر تم زندگی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاپنی مرضی سے گزار نہیں سکتے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتو جہاں تک ہو سکے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایسا \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکرنے کی کوشش کرتے رہو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کے ساتھ کھینچا تانی مت کرو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدنیا سے زیادہ تعلقات قائم کر کے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eزیادہ مصروفیات ظاہر کر کے،\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کی توہین مت کرو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاسے روزمرہ کی حماقتوں میں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسماجی رکھ رکھاؤ اور دعوتوں میں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eننگا مت کرو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایسا نہ ہو کہ یہ ایک بیزار چیز بن جائے۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسی پی کوفی (مصر)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکتاب | سہ پہر کی دھوپ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eپیج | 27۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249393197355,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1","price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Dasht-e-wafan-Copy-scaled.jpg?v=1683970242"},{"product_id":"دشت-وفا","title":"دشت وفا | Dashat e Wafa","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدشت ِ وفا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(ناول)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eآغا گل\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249393492267,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1","price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Dasht-e-wafa-Copy-scaled.jpg?v=1683970246"},{"product_id":"pakistan-since-1857-to-2012","title":"100 din by Muhammad Abid Farooq| 100 دن","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۱۰۰دن| (ناول) | (Sau Din (Novel\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمحمد عابد فاروق\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249395228971,"sku":"9789695622537-56","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/100-Day-Copy-scaled.jpg?v=1683970276"},{"product_id":"fourteen-days","title":"Fourteen Days","description":"\u003cp\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eFourteen Days; A novel about Covid 19\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eBy Sajjad Malik\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249404928299,"sku":"9789695625050","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/14-Days-1-scaled.jpg?v=1683970466"},{"product_id":"منافقت-hypocrisy","title":"منافقت | Hypocrisy","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eمنافقت | Hypocrisy\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(افسانے اور حقیقت)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eوقاص انیس\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249406730539,"sku":"9789695626689-6-2","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/IMG-20190225-WA0017.png?v=1683970515"},{"product_id":"sehra-ka-raqas","title":"ہمہ اوستہ | Everyone","description":"\u003cp\u003eSehra ka Raqas Arab World Poets\u003cbr\u003e\n\\n\u003cbr\u003e\n\\nNazir Lagari\u003cbr\u003e\n\\n\u003cbr\u003e\n\\nTranslation Arabic Famous Female Poets Poetry\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249410367787,"sku":"9789695626795","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Huma-Owast-scaled.jpg?v=1683970584"},{"product_id":"آب-نیل-پہ-آوراگی","title":"آب نیل پہ آوراگی  | Aab Nil Pah Awragi","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"کیا تمہں معلوم ہے کہ میں کس چیز سے خائف ہوں,کہ خدا ہم سے ناراض ہے\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"جس طرح ہر شے دوسری شے سے نالاں ہے\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"ایسے ہی جسیے اس سے نالاں ہونا بذاتِ خود نالاں پونے سے نالاں ہونا ہے\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eآب نیل پہ آواگی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنجیب محفوظ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eترجمہ: نیئر عباس زیدی\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249418133803,"sku":"9789695626481","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/desktop-one-scaled.jpg?v=1683970785"},{"product_id":"دردوفاء","title":"دردوفاء۔۔۔۔۔۔۔ | Dar Dar Wafa","description":"\u003cp\u003e دردوفاء۔۔۔۔۔۔۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eدردِوفاء ایک بہت ہی خوبصورت کہانی ہے جس کا کئی ماہ سے انتظار تھا. جوں ہی ہاتھ لگی دو دن میں پڑھ ڈالی. کہانی بہت ہی پسند آئی اور یہ سوچتے ہوئےکہ یہ مصنفہ کے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eقلم. کا پہلا آشکار تھا، بہت ہی خوب لگا. میاں بیوی کے رشتے میں احساس، قربانی اور اس کے صلے کی بہت ہی خوبصورت داستان ہے. ابتدا میں وہاج کے کردار سے شکایت رہی. کہانی کے اختتام پر موجود کچھ لائنز نے ناول کو چار چاند لگا دیے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبس افسوس یہ ہوا کہ ناول بڑا تیزی سے اپنے اختتام کو پہنچ گیا.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنفہ سے توقعات مزید بڑھ گئی ہیں اب ان کے اگلے ناول کا بےصبری سے انتظار رہے گا. دعا ہے کہ قلم کا اور ان کا ساتھ یونہی برقرار رہے اور ان کی قلم کی روشنی سے سب مستفید ہوں.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249419510059,"sku":"","price":380.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Dard-e-Wafah-final-riaz-scaled.jpg?v=1683970823"},{"product_id":"داغ-ناول","title":"داغ  | Daag","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"معاشرے کے دھتکارے ہوئے کرداروں کی ان کہی داستان\"\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eداغ ۔ ناول\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: حبیب اللہ صارم\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249421574443,"sku":"","price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Habib-ul-Saram--scaled.jpg?v=1683970862"},{"product_id":"sangi-kitabain-kaghzi-parhan","title":"سودوزیاں کے درمیاں | SoDo Ziyan K Darmiyan | Khalid Fetah Muhammad","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eخالد فتح محمد کے ناول ’’سودوزیاں کے درمیاں ‘‘ پر ایک نوٹ\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاگر غور طلب طریقے سے معاصر ناول کی تخلیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eساتھ ناول کی خارجی اور داخلی ساخت میں تجربات ہوئے اور عموماً تجربات پر بے جاتنقید بھی ہوئی ۔تکنیک کی سطع پر کسی قسم کی پیچیدگی ہمارے لئے بے معنی ہی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ تو شاید کہ قاری اپنے ذہن کو ڈسٹرب کیے بغیر کڑی در کڑی کہانی پڑھنے کا خواہش مند تھا اور ہے ۔اس کے ساتھ پیچیدہ تکنیک ناقدین کے لیے بھی مسئلہ ہے (صرف وہ ناقدین جو کسی خاص تحریک یا نظریے کے پابند ہیں)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eخالد فتح محمد اکیسویں صدی کا فکشن نگار ہے اور یہی حیران کن بات ہے کہ سفید بالوں والے گوتم نے نروان کی آخری سیڑھیوں پر قدم رکھتے لکھنا شروع کیا اور دو دہائیوں میں 9 ناول ،5 افسانے کے مجموعے اور 5 تراجم کی کتابیں شائع کروادیں۔۔۔ خالد کا شمار اُن اکادکا فکشن نگاروںمیں ہوتا ہے جس کے افسانے اور ناول باآسانی الگ الگ خانوںمیں رکھے جاسکتے ہیں اور یہ غیر معمولی بات ہے۔مگر اردو تنقید نے خالد کے ناولوں کے ساتھ نا مناسب طرز عمل اختیار کررکھا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eخالد کا نیا ناول ’’سود و زیاں کے درمیاں‘‘ ناول نگاری کے باب میں منفرد تجربہ ہے۔ناول کی کہانی پہلے صفحے سے ہی جکڑ لیتی ہے مگر آگے بڑھتے ہوئے سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ایک اور کہانی شروع ہوتی ہے جو ایک خاص مقام پر آکر رک جاتی ہے اور وہیں سے ایک اور کہانی ۔۔۔۔ خالد کا کمال فن یہ ہے کہ قاری پچھلا حصہ بھول کرآگے بڑھتا ہے اور ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ناول کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے جب ساری کہانیوں کی کڑیاں ایک دوسری سے ملتی ہیں تو حیرانی کا ایک اور دروازہ کھلتا ہے ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eخالد نے اس ناول میں نچلے اور متوسطہ طبقے کے لوگوں کے دکھوں، پریشانیوں اور الجھنوں کو پیش کیا ہے ۔ان کی کامیابی کے دو اہم اسباب کہ گہرے غوروفکر سے کام لے کر اپنے موضوع اور کردار کو اس انداز سے پلاٹ میں سمویا ہے۔ ہرمنظر، ہر مکالمہ یوں ناول کے قالب میں ڈھل جاتا ہے کہ احتجاج کا رنگ بھی نمایاں رہتا ہے اور امیدوں کی کرن بھی دکھائی دیتی ہے ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسرمایہ نظام کے خلاف بغاوت اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ مارکسی نظریات سیدھے سادھے بیانیے اور عام زندگی سے اخذ کردہ ہیں ،ٹھونسے نہیں گئے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفردوس نامی ایک کردار کے نسوانی کرب کو عورت کی نظر سے دیکھا اور ایسے تیکھے لہجے میں تفصیل اور شدت کے ساتھ پیش کردیا کہ مرد کی جابرانہ برتری کا بھانڈا پھوٹ گیا۔فردوس نامی کردار کے ذریعے ہی قدامت پرست نظریات کی جس انداز سے نفی کی گئی وہ نیا بیانیہ ہے جسے قبول کرنے میں وقت لگے گا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249424326955,"sku":"","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Sood-w-Zea-k-Derman--scaled.jpg?v=1683970918"},{"product_id":"پاگل-آدمی-کی-ڈایری-pagal-admi-ki-dairy-khalid-fateh-muhammad","title":"پاگل آدمی کی ڈایری | Pagal Admi Ki Dairy | Khalid Fateh Muhammad","description":"\u003cp\u003eپاگل آدمی کی ڈایری | Pagal Admi Ki Dairy | Khalid Fateh Muhammad\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249425899819,"sku":"","price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Lu-xun-scaled.jpg?v=1683970950"},{"product_id":"ادبیات-عربی-کے-دومحقق","title":"ادبیات عربی کے دومحقق | adbiyat Arbi kay do mhqat","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eادبیات عربی کے دومحقق\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمحمد کاظم اور خورشید \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف ڈاکٹر راحت\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249426063659,"sku":"","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Adabiyat-Arabic--scaled.jpg?v=1683970956"},{"product_id":"ابنارمل","title":"Abnermal | ابنارمل | Ashu Lal","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔۔۔۔ابنارمل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eابنارمل اشو لال کے سرائیکی افسانوں\/کہانیوں کی پہلی کتاب ہے۔اشو سرائیکی کا شہرہ آفاق تخلیقی جوہر کا مالک شاعر ہے جس کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو کر شہرت حاصل کر چکے ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں تیرہ افسانے\/کہانیاں شامل ہیں۔جو1992ء سے2015 ءکے درمیان لکھے گئے ہیں۔لیکن بعض کے واقعات اس سے پہلے کے ہیں۔ جن کے نام یہ ہئیں باوی۔ حافظ ڈاڈے دی شادی۔مسیت دے لٹھے۔پوہ مانہہ دے امب۔خان وڈا۔شیش نانگ۔وتھ متوں ویلا۔جنگل کہیڑ اتے جتاما۔گنگا بشیرا اتے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکملی۔بے وطن۔سیربین دا بڈھا۔مکھن۔ابنارمل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eافسانوں میں لکھاری کے اپنےاردگرد کے علاقے اور لوگوں کی کہانیاں ہیں۔اس کے اپنے شہر کے کردار بھی ہیں اور بہاول پور چولستان کے بھی۔ان کو افسانے کہنے کی بجائے کہانیاں کہنا چاہئے جیسا کہ خود مصنف نے کہا ہے اور یہ ایسی کہانیاں ہیں جن پر گارشیامارکیز کے مطابق یقین کیا جاسکتا ہے اور یہ قول کتاب کے شروع میں درج بھی ہے۔جو ہمارے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکچھ کہانیوں کا تعلق تقسیم سے ہے۔اس تقسیم سے لوگ جس انداز سے گزرے ہیں وہ قاری کے تقسیم کے بارے میں اعتبار کو متزلزل کردیتاہےاور دکھی بھی۔تقسیم کی اذیت کے بعد لوگ پھر ضیا کے دور بھٹو کی پھانسی کے عہد سے بھی گزرے ہیں وہ ان عزابوں کا ذکر کر کے پاکستانی لوگوں کے یاد دلاتا ہے کہ ان کو ان دکھوں سے دوسری بار بچنے کا احساس ہو سکے۔یہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eافسانے کہانیاں ہی رہتی ہیں اور افسانہ نگارکسی نظریاتی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eHe should like to be a free artist and nothig more لیکن اس کے باوجود فکراپنی روشنی پھیلاتی نظر آتی ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔اور یہی کہانی کا فن ہے کہ وہ چپکے سے قاری کے اندر اترتی ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکہانیوں میں کردار نگاری کا فن اپنے عروج پر ہے بلکہ وہ اکثر کہانیوں کا حاصل ہے۔ان میں شیش نانگ۔حافظ ڈاڈے دی شادی۔خان وڈا خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ان\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکہانیوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ یہ کس عہد اور کس جگہ کی کہانیاں ہے ضیاء دور کا عہد بھٹو کو پھانسی لگنے کا زمانہ وغیرہ۔اس طرح بی۔وی کا دماغی امراض کا وارڈ اور چولستان میں پنجابی افسر رانا کمال کی تعیناتی جو ابنارمل ہے اور اس بد بخت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کتاب کا نام اس کردار پر ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاشو جب کسی کہانی کا آغاز کرتے ہیں تو اس کے آغاز یا اس کے نام سے کہانی کے اختتام کا پتہ نہیں چلتا بعض کہانیاں کہانی در کہانی بل کھاتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں جیسے شیش نانگ وغیرہ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاشو کی شاعری کی طرح اس کی کہانیاں بھی اپنی انفرادیت کی حامل ہیں۔ان کا خیال لغت املا سب کچھ اشو کے اپنےمزاج اور فکر کو سمجھنےمیں مدد دیتی ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاسلم رسول پوری\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction house","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249426194731,"sku":"","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Abnormal-1-scaled.jpg?v=1683970960"},{"product_id":"پر-اسرار-اجنبی","title":"پر اسرار اجنبی | Par Asrar Ajnabi | Abid Sohail","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e­پر اسرار اجنبی\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف | ایچ جی ویلز\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | عابد سہیل\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249431699755,"sku":"","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/The-Invisible-Man-scaled.jpg?v=1683971053"},{"product_id":"bugti-qabaila","title":"شرم بوٹی | Sharam Boti","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eشرم بوٹی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eرائٹر : گوبند مالھی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan\u003e صفحات : 112\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249434812715,"sku":"9789695625460","price":200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/Sharam-Booti.gif?v=1683971094"},{"product_id":"صدی-کی-آخری-محبتناول","title":"صدی کی آخری محبت(ناول) | Sadi Ki Akhri Muhabat","description":"\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eصدی کی آخری محبت(ناول)\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eگلزار ملک\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات:232، سائز:\u003c\/span\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249445331243,"sku":"","price":380.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/11952725_1125184964163199_117555175409415465_o.jpg?v=1683971312"},{"product_id":"قاموس-ناول","title":"قاموس (ناول) | Qamos","description":"\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eKamoos (novel)\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eby\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eAltaf Hussain\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eقاموس (ناول)\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eحسین الطاف\u003c\/span\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249446248747,"sku":"","price":380.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/14324552_1384059851609041_6800347228298367636_o.jpg?v=1683971334"},{"product_id":"ڈبو-کی-ڈِبیہ-اور-دیگر-ناولٹ-daboo-ki-dabia","title":"ڈبو کی ڈِبیہ اور دیگر ناولٹ | Daboo ki Dabia","description":"\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eڈبو کی ڈِبیہ اور دیگر ناولٹ | Daboo ki Dabia\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eیشپال جین\/ڈاکٹر جگدیش ویوم\/سیما سچدیو\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eمرتبہ: اقراء توحید\u003c\/span\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249450934571,"sku":"","price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/44740302_2302275816454102_962874806691168256_n.jpg?v=1683971404"},{"product_id":"صفر-کی-توہین-ناول","title":"صفر کی توہین (ناول) | Safar Ki Tohin","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفر کی توہین (ناول)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاشعر نجمی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات | 160\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249451852075,"sku":"","price":380.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/SifarKiTauheen.jpg?v=1683971431"},{"product_id":"اس-نے-کہا-تھا-ناول","title":"اس نے کہا تھا (ناول) | Es Nay Kaha Tha","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاس نے کہا تھا (ناول)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاشعر \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eنجمی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات | 288\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249451950379,"sku":"","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/UssNeKahaTha.jpg?v=1683971433"},{"product_id":"ایک-قطرہ-خون-ek-qatra-khoon","title":"ایک قطرہ خون. | Ek Qatra Khoon","description":"\u003cstrong\u003e\u003cstrong\u003e﻿\u003c\/strong\u003e\u003c\/strong\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایک قطرہ خون.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eواقعہ کربلا پر ایک تاریخی ناول.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنفہ. عصمت چغتائی.\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249453031723,"sku":"","price":380.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221014_174835.jpg?v=1683971463"},{"product_id":"پنجر-pinjr-amrita-pretam","title":"پنجر |  Pinjr | Amrita Pretam","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eزیر نظر کتاب امرتا پریتم کی تقسیم ہند پہ لکھا گیا درد انگیز ناول ہے۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاگر \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eآپ ساحر و امرتا کے فین ہیں اور یہ نہیں پڑھا تو کچھ نہیں پڑھا آپ نے۔۔۔امرتا کا یہ ناول انتہاٸ درد ناک ہے۔۔یہ حقیقت پہ مبنی ایسی کتاب ہے جسے اپنے لہو سے لکھا گیا ہے۔۔۔تقسیم کے عام عوام کی نفسیات پہ گیا اثر ہوا؟تقسیم کی ہولناکیوں کو سامنے لاتا ہوا اک ناول\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249453523243,"sku":"","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221014_174844.jpg?v=1683971466"},{"product_id":"گئودان-gaodan-prem-chand","title":"گئودان | Gaodan | Prem Chand","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\"منشی پریم چند\" ناول نگاری کی دنیا میں ایک جانا مانا نام، کا ایک انوکھا ناول مناسب قیمت میں دستیاب؛\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eناول: گئودان\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249453687083,"sku":"","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221014_174929.jpg?v=1683971471"},{"product_id":"نمک-کا-جیون-گھر-namak-ka-jeevan-ghr-riffat-abbass","title":"نمک کا جیون گھر | Namak Ka Jeevan Ghr | Riffat Abbass","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنمک کا جیون گھر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسرائیکی سے ترجمہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمنور اکاش\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسرائيکی زبان و ادب کی نمائندہ شخصیت جناب رفعت عباس صاحب کا ناول ”نمک کا جیون گھر “جس کا اردو ترجمہ کیا ہے جناب منور آکاش صاحب نے ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایک ایسا شہر جس میں انسان کی پہچان فقط انسان ہونے کی حیثیت ہی سے ہو جہاں انسان کسی تفریق کا شکار نہ ہو ۔تمام شناختوں سے اعلیٰ و افضل فقط انسان ہونا ہی ہو ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eناول کیا ہے ایک شدھ معاشرے کا خواب ہے\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249454407979,"sku":"","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/273374330_5134269503328066_4430331516838342166_n.jpg?v=1683971486"},{"product_id":"ایک-زندگی-ek-zindgi-khalid-fetah-muhammed","title":"ایک زندگی۔۔۔۔۔۔؟ | Ek Zindgi,,. | Khalid Fetah Muhammed","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eخالد فتح محمد:\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمیں اور اُس درحقیت ناول ” ایک زندگی۔۔۔۔۔۔؟“ میں ایک ہی کردار کے دو عکس ہیں۔ میں کا عکس ناول میں اپنے اندر کی حقیقی خواہشوں کا ترجمان جبکہ اُس کا کردار ان کرداری اوصاف کا پرتو ہے جو ہماری تربیت کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ پورا ناول ایک ہی کردار کے ان دو رخوں کے گرد بُنا گیا ہے۔ مرکزی کردار اپنے اکلاپے کی بدولت مختلف طرح کے خیالات کی تکرار میں بندھا ہوا ہے یہ تکرار بعض جگہوں پر بوجھل بھی لگتی ہی لیکن مرکزی کردار کی محدود زندگی کے محدود پہلووں کی بدولت اپنی گنجاٸش ناول میں \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eپیدا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ ناول کا کینوس بہت وسیع نہیں ہے جیسا کہ ناول کے چلت انداز میں اب سند سمجھا جاتاہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اپنی حد درجہ محدود زندگی میں قید ہے جس میں ایک باغ اور گھریلو ملازمہ موجود ہیں۔ جیسے باغ اور کھیت خالد فتح محمد کے مستقل کردار ہیں ویسے ہی ایک پراسرار عورت یعنی گھریلو ملازمہ بھی اس ناول میں موجود ہے۔ ناول بڑھاپے کے نزدیک پہنچے ایک ایسے بوڑھے کی داستان ہے جو عمر کے اس حصے میں جنسی خلا کو بہت زیادہ محسوس کرنے لگا ہے۔ ایسے میں ایک عورت ہی اس کی طرف پہل کرکے اسے اس بند خول سے باہر نکالتی ہے جو اس کی بچپن کی تربیت نے اس کے گرد ترتیب دیا ہوتا ہے۔\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249454440747,"sku":"","price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/AikZindgi2021.jpg?v=1683971489"},{"product_id":"معصومہ-ناول-masoma-asmat-chugtai","title":"معصومہ (ناول) | Masoma | Asmat Chugtai","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمعصومہ (ناول)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاز : عصمت چغتائی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ کتاب کمزور دل افراد کے لیے نہیں لکھی گئی تھی.... چُبھنے والے غصے اور کاٹ دار حقیقت نگاری کے ساتھ باریک بین آنکھ نے صرف بمبئی سینما کی اندھیر نگری کی ہی تصویر کشی نہیں کی بلکہ نام نہاد شرافت کے کلچر کا نقاب بھی نوچا ہے....\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(رخشندہ جلیل)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمعصومہ (ناول) | Masoma | Asmat Chugtai \u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45249456079147,"sku":"","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/products\/20221018_113835.jpg?v=1683971520"},{"product_id":"bay-panah-shaadmani-ki-mohabbat-بے-پناہ-شادمانی-کی-محبت-از-ارون-دتی-رائے","title":"Bay panah shaadmani ki mohabbat| بے پناہ شادمانی کی مملکت از ارون دتی رائے","description":"\u003cp\u003eدنیا کی سب سے بڑی ڈی مین کریزی کا مقابلہ کرتے کشمیری\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eارُندھتی رائے انڈین ادیب، ایکٹیوسٹ اور صحافی ہیں۔ ان کا پہلا ناول گاڈ آف سمال تھنگز 1997 میں شائع ہوا اور مین بُکر ایوارڈ حاصل کیا۔ گاڈ آف سمال تھنگز کا ترجمہ سسکتے لوگ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ اس کا دوسرا ناول دو دہائیاں بعد منسٹری آف ایٹموسٹ ہیپی نیس کے نام سے شائع ہوا۔ اس کا ترجمہ اجمند آرا نے کیا اور آج پبلیکیشن کراچی نے اسے شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کئی نان فکشن کتابیں لکھ چکی ہیں۔ مجھے رائے کی نان فکشن کو پڑھنا فکشن پڑھنے سے زیادہ پسند ہے کیونکہ نان فکشن منطق اور اعداد و شمار کے ساتھ مل کر ایک مضبوط بیانیہ بناتی ہے۔ ان کے مضامین فکر کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ رائے کے مضامین کو پڑھتے ہوئے تیسری دنیا کے مجھ جیسے نوجوانوں کو عجیب شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔خاص کر وہ لوگ جو اپنے ملک کے اندر ہونے والی ظلم، زیادتی، انتہا پسندی اور اقلیتوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف بولنے کی ہمت تو نہیں رکھتے لیکن انڈیا یا دیگر مخالف ملکوں میں ہونے والی ایسی سب باتوں پر شور مچاتے ہیں۔ جو بیانیہ رائے کشمیر پر اپناتی ہیں اور ہم لوگ اسے بہت ہائپ دیتے ہیں جب وہی منطق بلوچستان کی طرف آتی ہے تو اس پر بات کرنے دے ہمارے پَر جلنا شروع ہو جاتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرائے کی فکشن میں وہ روانی مفقود ہوتی ہے جو ان کے مضامین میں نظر آتی ہے۔ شاید پوری دنیا میں مارکیز جیسی رواں نثر اور سحر انگیز حد تک اپنی طرف متوجہ کرنے والی داستان گوئی کسی اور صحافی ادیب کے حصے میں نہیں آئی۔ ہیمنگوئے بھی اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔ رائے کی نثر اس قدر بوجھل محسوس ہوتی ہے کہ کئی کوششوں کے بعد بھی ایک کتاب مکمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گاڈ آف سمال تھنگز میں یہ چیز زیادہ نظر آتی ہے۔ ”مملکت“ پڑھتے ہوئے بھی بعض جگہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رائے بہت ساری معلومات اس میں کھپانا چاہتی ہیں۔ ولادت اور ڈاکٹر آزاد بھارتیہ والے دو ابواب پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ رائے کے مضامین کا ہی سلسلہ ہے۔ ”مملکت“ ایک ایسا ناول ہے جسے رائے نے دو دہائیوں تک اپنی سیاسی اور انسانی حقوق کی ایکٹیوزم کے دوران سینچا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بیان کر کے اس ناول کے ذریعے رائے نے ہندو انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے جنون کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ کھڑا کیا ہے۔چونکہ لمبے عرصے سے رائے کشمیر کی آزادی کے لیے متحرک رہی ہیں اس لیے یہ ناول مجاہدین کے کشمیر سے نکل کر برہان وانی کے کشمیر میں ہونے والی جدوجہد کی کہانی تمام تر تفصیل کے ساتھ قاری کے سامنے رکھتی ہے۔ ایک عام غیر ملکی قاری کے لیے بھی اس ناول میں انڈیا بارے اس قدر معلومات موجود ہیں کہ اگر ایک ایک واقع پر مزید تحقیق شروع کی جائے تو اس سے معلومات اور کاغذات کے کئی دفتر بھرے جا سکتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eانڈیا میں ہیجڑوں کی زندگی کے احوال، لینڈ مافیا کے طریقہ ، للا جیسے گجرات کے انتہا پسند کا نئے انڈیا کا چہرہ بننا، انا کے احتجاج کا احوال، کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور کیمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ممبر کی تلخ زندگیوں کے احوال جا بجا ناول میں بکھرے پڑے ہیں۔ تیسری دنیا میں ایک مشق جو حکومتوں کے تختے الٹنے کے لیے بہت شدت سے دہرائی جا رہی ہے وہ کرپشن کے نام پر ناپسندیدہ حکومتوں کو چلتا کر کے سرمایہ داروں کے پٹھوں کو لا بٹھانا ہے۔ جو بظاہر تو سفید سیاہ کا مالک ہو لیکن اس کے ہینڈلر بڑی بڑی کمپنیوں کے سرمایہ دار ہوتے ہیں۔ انڈین اقتصادی معجزے کا مسیحا سمجھا جانے والے ”خرگوش“ کی حکومت کو کس طرح گجرات کے للا نے، انا ہزارے کی کمپیئن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مفلوج کر دیا یہ ہم پاکستانیوں کے لیے بھی اپنا سا قصہ محسوس ہوتا ہے۔ چیختے چنگھاڑتے رپورٹر کس طرح کرپشن کی پروجیکشن کر کے منی پوری قوم پرستوں کے مطالبات، تبتی پناہ گزینوں کی آزاد تبت کی مانگ، ان ماوں کی انجمن جن کے ہزاروں بیٹے کشمیر کی جنگ میں لاپتہ کر دیے گئے تھے یا ان جیسے دیگر عوامی ایشوز یوں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں جیسے کرپشن کے خلاف اس بڑے احتجاج میں وہ وجود ہی نہ رکھتے ہوں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eبنیادی طور پر رائے اس کہانی کے ذریعے سیکولر اور نئی ابھرتی بین القوامی طاقت کی شہرت پانے والی انڈین اقتصادی قوت کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ انڈین بیوروکریسی کے ایک اعلی عہدیدار گارسن ہوبارٹ کے ذریعے جس طرح کے کشمیر اور انڈیا کی تصویر دکھائی گئی ہے وہ بہت بھیانک ہے۔ وہ سیکولر انڈیا جس میں ہندو قوم پرستوں نے ایسا زہر بھر دیا ہے کہ لوگ مزہبی عقیدے اور دیش بھکتی کے فرق کو سمجھنے کے اہل نہیں رہے۔ ایک جگہ گارسن ہوبارٹ کہتا ہے کہ ” ان میں زیادہ تر لوگ تنگ نظر، چھپے ہوئے برہمن ہیں۔ جو اپنے سفاری سوٹوں کے اندر پوتر جنیئو پہنتے ہیں اور ان کی دھارمک چوٹیاںان کی سبزی خور کھوپڑیوں میں اندر کی طرف لٹکتی ہیں۔ وہ مجھے اس لیے برداشت کر لیتے ہیں کیونکہ میں ان کی طرح برہمن ہوں“ـ گجرات کے للے کی حکومت کے بعد ابھرتا بھارت ایسا بھارت ہے جہاں چماروں کو عام سی لڑائی پر گاو کشی کا الزام لگا کر مار دیا جاتا ہے۔ جہاں مسلمان اب محفوظ نہیں ہیں۔ جہاں امیر تو امیر تر ہوتا جا رہا ہے لیکن غریبوں کو لوٹنے اور اس کی بوٹیاں نوچنے والے بہت سے لوگ ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول کی زبان کو دھو کر صاف شفاف نہیں کیا گیا بلکہ ہر کردار اپنا الگ انداز بیاں اور الفاظ کا ذخیرہ رکھتا ہے۔ تکنیک کے ذریعے کہانی کے پلاٹ کو بہت جاندار طریقے سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ رائے کی منظر نگاری میں اکثر ایک عجیب تلخی محسوس ہوتی ہے۔ شاید یہ اس کے کرداروں اور کہانی کا تقاضا ہوتا ہے۔ دہلی سے لے کر کشمیر تک پھیلا ہوا یہ ناول خواب گاہ اور جنت کے رہائشیوں کی کہانیاں سناتا ہے۔ انجم جیسے ہجڑے، صدام جیسےچمار، ریتو جیسی نیگر شباہت رکھنے والی، ضیا جیسے امام، ڈاکٹر آزاد بھارتیہ جیسے بھوکے، موسی جیسے کشیری حریت پسند، ناگا جیسے ریاستی صحافی اور گارس ہوبارٹ جیسے بیوروکریٹ کے کردار ناول کے بیانیے کو گہرا اور وسیع اور تیسری دنیا کی حقیقی کہانی بنا دیتا ہے۔ ناول کے اختتام پر کیمیونسٹ آف انڈیا پارٹی کی تیلیگو رکن مس ریوتی کا خط پڑھ کر ایک الگ انڈیا کی تصویر ابھرتی ہے ٹی وی کی چکا چوند سے دور سیکولر ہندوستان کی حقیقت کو عیاں کرتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e”مملکت“ میں کشمیر میں موجود آزادی کے پروانوں کی پچھلی دو دہائیوں میں کی جانے والی جدوجہد کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کشمیر جو کشمیریوں، ہندوستانیوں، چینیوں پاکستانیوں، گوجر، ڈوگرے، پشتون، شِن، لداخی، بلتی، گلگتی، پوریکی، واخی،یشکون، تبتی، منگول، تاتار، مون اور خووار کا گھر ہے۔ کشمیر کی جدوجہد کو ناول میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نوے کی دہائی اور اس کے بعد کی جدوجہد سے موازنہ کر کے آنے والی پیلٹ زدہ کشمیری نسل کو آزادی کی ایک نئی لہر کا حصہ قرار دیا ہے۔ جو پیلٹ گن سے اپنی ایک آنکھ اندھی کروا کر اور ایک ٹانک زخمی کروا کر بھی پتھروں سے لڑنے کا جزبہ رکھتے ہیں۔ جو اس جدوجہد سے مختلف ہے جس میں کشمیریوں کو پاکستانی مجاہدین کی حمایت حاصل تھی۔ جب خود انڈین فوجی پیسے لے کر مجاہدین کو وادی میں داخل ہونے کا راستہ دیتی تھی اور دو تین سال کے اندر اندر اپنی طاقت ور انٹیلیجنس کے ذریعے ان کو ختم کر دیتی تھی۔ نوے کی دہائی میں کیوں کشمیری اپنی جدوجہد کے بہترین دور میں آزادی حاصل نہیں کر سکے اس کو سمجھنے کے لیے یہ اقتباس کسی حد تک بہت اہم ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e” ایمان والے اپنی اپنی بندوقیں، اپنی اپنی تسبیحیں اور اپنی اپنی تباہی کا منشور اپنے ساتھ لے کر آتے تھے“۔ ” کشمیر میں داخلی خبط، جہاد کا تصور، پاکستان اور افغانستان سے رس کر آیا ہے۔ پچیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے کہ حقیقی اسلام کے آٹھ یا نو دعویدار گروہ کشمیر میں جہاد کر رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے ہمیں فائدہ ہی ہوا ہے۔ ہر گروہ میں ملاوں، مولاناوں کو اپنا اپنا طویلہ ہے۔ ان میں جو گروہ سب سے زیادہ شدت پسند ہیں۔ جو وطن پرستی کے خلاف اور عظیم الشان امت اسلامی کے تصور کی تبلیغ کرتے ہیں۔ دراصل ہمارے تنخواہ داروں کی فہرست میں ہیں۔ ان میں سے ایک کو حال ہی میں اپنی مسجد کے باہر بائیسیکل بم سے اڑا دیا گیا۔ اس کی جگہ دوسرے کو بھرتی کرنا مشکل نہیں ہو گا۔ جو شے کشمیر کو پاکستان اور افغانستان کی طرح از خود تباہ ہونے سے روکے ہوئے ہے وہ یہاں کی پیاری پیٹی بورژوا سرمایہ داری ہے۔ اپنی تمام تر مزہب پرستی کے باوجود کشمیری لوگ بڑے زبردست تاجر ہیں۔ اور آخر تو تمام تاجر کسی نہ کسی طرح حالات کی جوں کا توں برقرار رکھنے میں ہی اپنی بھلائی دیکھتےہیں۔ جسے ہم پیس پروسیس کہتے ہیں۔ جو بہرحال امن سے مختلف، تجارت کا ایک الگ ہی طرح کا موقع ہے“۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکشمیریوں کے جوش اور جزبے سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی انڈین فورسز اپناتی ہیں۔ وہ یہ ہے کہ کشمیریوں کے غصے کو لاوا نہ بننے دو۔ اگر وہ غصہ لاوا بن کر پھٹا تو وہ سب کچھ جلا دے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ” تلخ تجربوں سے ہم یہ سیکھ چکے تھے کہ لوگوں کو اپنے جزبات کا غبار نکالنےاور گاہے بگاہے نعرے لگانے دینے سے یہ فائدہ ہو گا کہ ان کا غصہ جمع ہو کر غیظ و غضب کی ناقابل عبور چوٹی نہیں بن سکے گا۔ کشمیر میں ایک چوتھائی صدی کی شورش میں اس طریقے نے اب تک فائدہ ہی پہنچایا ہے۔ کشمیری ماتم کرتے تھے، روتے تھے، نعرے لگاتے تھے، لیکن آخر میں ہمیشہ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جیسے جیسے بتدریج عادت میں بدلتا گیا، ایک قابل پیش بینی، قابل قبول سلسلے میں بدلتا گیا، ان کا اپنے اوپر اعتماد ختم ہونے لاگا، وہ خود کو، اپنے فوری جوش و غضب کو اور اپنی آسان سپردگیوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے لگے۔ یہ بلا منصوبہ فائدہ تھا جو ہمیں ملا تھا“۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e”کشمیر میں جب ہم صبح کو جاگتے ہیں اور good morning کہتے ہیں تو ہماری مراد در اصل میں good mourning (ماتم بخیر) ہوتا ہے“\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکشمیریوں کے لیے موت کوئی اجنبی شئے نہیں رہی بلکہ وہ تو ان کے جینے کا قرینہ بن گئی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e” موت ہر جانب تھی، موت ہر شے تھی۔ کرئیر۔ آرزو۔ خواب۔ شاعری۔ عشق۔ خود جوان بھی۔ موت جیسے جینے کا قرینہ بن گئی۔ قبرستان اُگ آئے، پارکوں اور چراگاہوں میں، چشموں اور ندیوں کے ساحلوں پر، کھیتوں اور جنگلوں کے سبزہ زاروں میں۔ قبروں کے کتبے زمین سے یوں اگنے لگے جیسے چھوٹے بچے کے دانت۔ ہر گاوں، ہر بستی کا الگ الگ قبرستان بن گیا۔ جہاں نہیں بنا لوگ اس پر پریشان تھے کہ کہیں انھیں دشمن کا شراکت دار نہ سمجھا جائے۔ دور دراز کے سرحدی علاقوں میں، لائن آف کنٹرول کے نزدیک، جس رفتار اور تسلسل سے لاشیں برآمد ہو رہی تھیں، اور ان میں سے بعض کا جو حال ہوتا تھا، اس سے نمٹنا آسان نہ تھا۔ ان میں بعض بوریوں میں بھر کر بھیجی جاتیں، بعض پلاسٹک کی چھوٹی تھیلیوں میں، گوشت کے چند لوتھڑوں، بالوں اور دانتوں کی صورت میں۔ موت کے رسد رساں ان کے ساتھ پرز نتھی کر کے بھیجتے: ایک کلو، پونے تین کلو، پانچ سو گرم“ـ\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرائے دنیا کی سب سے بڑی ڈی مین کریزی کے انسان دشمن سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کے خلاف ایک توانا آواز ہیں۔ اس ناول میں ہم رائے کی انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی بیس سالہ جدوجہد کو دیکھ سکتے ہیں۔ آخر میں رائے کے اس تھیسز سے اتفاق کیے بنا چارہ نہیں ہے کہ تمام تر فاشسٹ اپروچ کے باوجود انڈین فورسز کشمیریوں کے جزبہ حریت کو کم نہیں کر پائے بلکہ پتھروں اور ڈنڈوں سے مسلح ایک نئی نسل اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔۔۔۔\u003c\/p\u003e","brand":"City book press","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45419099390251,"sku":"","price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/Bepanah-Shadmani-Ki-Mumlikat.webp?v=1758462243"},{"product_id":"god-of-small-things-by-arundti-roy","title":"Sisaktay log by Arundti Roy","description":"\u003cheader class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"header-fixed\"\u003e\n\u003cdiv class=\"pt-2\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv id=\"mySidebar\" class=\"sidebar-menu\"\u003e\n\u003cnav class=\"navbar-menu navbar-expand-lg\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/payment-info\" class=\"menus navbar-toggler\"\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.bookcorner.com.pk\/delivery-charges-chart\" class=\"menus navbar-toggler\"\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/nav\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/header\u003e\n\u003cdiv id=\"main\"\u003e\n\u003cdiv class=\"container-fluid\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-lg-9 col-xl-10 col-xs-12 panel\"\u003e\n\u003cdiv id=\"main-page\" class=\"container-md\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 clear pt-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row bg-white\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003ch4 class=\"text-text-dark-blue\"\u003eSISAKTY LOG \u003cspan dir=\"rtl\" class=\"right text-right\"\u003eسسکتے لوگ\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\" itemprop=\"mainEntity\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Book\"\u003e\n\u003cspan itemprop=\"offers\" itemscope=\"\" itemtype=\"http:\/\/schema.org\/Offer\"\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12\"\u003e\n\u003cdiv class=\"panel-section pt-0 row item-detail  \"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 text-center m-0 p-0 pt-1 pb-1\"\u003e\n\u003cdiv id=\"owlMobileNav\" class=\"disabled\"\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-prev\"\u003e\n\u003cdiv class=\"dot-left\"\u003e\u003ci class=\"fa fa-angle-left\" aria-hidden=\"true\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-next\"\u003e\n\u003cdiv class=\"dot-right\"\u003e\u003ci class=\"fa fa-angle-right\" aria-hidden=\"true\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-5 large-img text-center bg-light p-0 m-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"\"\u003e\u003cspan class=\"font-weight-bold pointer view-pdf\" data-url=\"61ea460ea563e1642743310.pdf\" data-toggle=\"modal\" data-target=\"#bookPDF\"\u003e\u003cspan class=\"text-danger\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-thumbnail item owl-mobile owl-carousel owl-theme mt-3 owl-loaded owl-drag\"\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-stage-outer\"\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-stage\"\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-item active\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"owl-item\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-7\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details mt-0 bb-0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"row d-flex justify-content-between\"\u003e\n\u003cdiv class=\"star-ratings-css ml-lg-3\" onclick=\"document.getElementById('rating_sec').scrollIntoView();\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"row bb-dark\"\u003e\n\u003cdiv class=\"col-md-12 details\"\u003e\n\u003cp class=\"text-dark text-justify\" dir=\"auto\"\u003eکچھ مصنفہ کے بارے میں:\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eارون دھتی رائے 24 نومبر 1961ء کو بھارتی ریاست میگھالیہ کے شہر شیلونگ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے والد راجب رائے چائے کے ایک باغ پر مینیجر تھے۔ ان کی والدہ میری رائے کا تعلق کیرالا کی شامی مسیحی برادری سے ہے اور انھوں نے راجب رائے سے محبت کی شادی کے کچھ عرصے بعد ان سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔ میری رائے اپنی بیٹی ارون دھتی کو ساتھ لیے کیرالا واپس آ گئیں جہاں انھوں نے ایک غیر روایتی سکول کھولا۔ ارون دھتی رائے نے بھی ابتدائی تعلیم اسی سکول میں حاصل کی۔ میری رائے نے بعد میں کیرالا کی مسیحی خواتین کے وراثت کے حق کے لیے ایک طویل عدالتی جنگ لڑی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔ ارون دھتی رائے نے سولہ سال کی عمر میں اپنی والدہ کا گھر چھوڑ دیا۔ انھیں دہلی کے مشہور سکول آف پلاننگ اینڈ آرکی ٹیکچر میں داخلہ مل گیا اور وہ ایک کچی آبادی میں رہنے لگیں۔ سترہ سال کی عمر میں انھوں نے آرکی ٹیکچر سکول میں اپنے ساتھی طالب علم اور دوست جیرارڈ ڈا کونہا سے شادی کر لی۔ دونوں پہلے دلّی اور پھر گوا میں ساتھ رہے اور چار سال بعد دونوں میں علاحدگی ہو گئی۔ جیرارڈ ڈا کونہا اب بھارت کے مشہور ماہرِ تعمیرات ہیں۔ 1984ء میں ارون دھتی رائے کی ملاقات فلم ساز پردیپ کرشن سے ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ دونوں نے مل کر تین فلمیں بنائیں جن میں سے 1989ء کی فلم ’’In Which Annie Gives It Those Ones‘‘ کو اب کلٹ (Cult) کا درجہ حاصل ہے۔ اس فلم میں ارون دھتی رائے نے خود بھی مرکزی کردار ادا کیا جب کہ بعد میں بالی ووڈ پر راج کرنے والے اداکار شاہ رُخ خان نے اس فلم میں ایک طالب علم کا کردار ادا کیا جس نے صرف ایک مکالمہ بولا۔ ارون دھتی رائے اور پردیپ کرشن اب الگ الگ رہتے ہیں مگر ان کی شادی برقرار ہے۔ 1992ء میں ارون دھتی رائے نے اپنے ناول ’’The God of Small Things ‘‘ پر کام شروع کیا اور اسے 1996ء میں مکمل کیا۔ 1997ء میں اس ناول کو بُکر پرائز ملا تو ارون دھتی رائے کو یکایک عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی، تاہم اندرون ملک انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ناول کی کامیابی کے بعد ارون دھتی رائے نے فکشن کے بجائے سماجی مسائل پر زیادہ توجہ دی اور ذات پات کے نظام، ڈیموں کی تعمیر سے ہونے والے ماحولیاتی اور انسانی نقصان، عالمگیریت، ہندو انتہاپسندی، نکسل باڑی تحریک اور کشمیر سے متعلق کھل کر لکھا جس میں بھارتی مقتدرہ اور مذہبی انتہاپسندوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارون دھتی رائے کشمیر کی آزادی کی حامی ہیں اور انھوں نے اس موضوع کو اپنے دوسرے ناول ’’The Ministry of Utmost Happiness‘‘ میں بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45419124195627,"sku":"","price":1250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/61e058f66243e1642092790.jpg?v=1685606526"},{"product_id":"lahore-ki-yadain","title":"Lahore Ki Yadain","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eTitle: Lahore Ki Yadain\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor: A Hameed\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eSubject: History\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eISBN: 9693501926\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eYear: 2010\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLanguage: Urdu\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eNumber of Pages: 393\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Sang e mell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45435220558123,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/lahore-ki-yadain-741849-618758_6b7a9242-557b-4a2e-94bf-b776cc7ff98e.webp?v=1758093158"},{"product_id":"majmua-a-hameed-manzil-manzil-مجموعہ-اے-حمید","title":"Majmua A Hameed: Manzil Manzil - مجموعہ اے حمید","description":"\u003cspan\u003eTitle: Majmua A Hameed: Manzil Manzil Etc\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eAuthor: A Hameed\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eSubject: Afsanay; Short Stories\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eISBN: 9693522680\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eYear: 2009\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eLanguage: Urdu\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eNumber of Pages: 560\u003c\/span\u003e","brand":"Sang e mell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45435241169195,"sku":null,"price":1820.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/majmua-a-hameed-manzil-manzil-mjmoaa-a-hmid-557762-727510_5ce030a1-7a48-4781-b7ad-3d416691f41a.webp?v=1758093156"},{"product_id":"lazzat-e-sang-by-manto-لذت-سنگھ-از-سعادت-حسن-منٹو","title":"Lazzat-E-Sang By Manto| لذت سنگھ از سعادت حسن منٹو","description":"\u003cp\u003eBook: Lazzat-E-Sang (Urdu)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eWriter: Saadat hassan manto\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePrice: 299\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 106\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45591804215595,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/9789696401032_28e82496-385a-4d5d-935f-661ce7cbfd45.jpg?v=1758106370"},{"product_id":"aatish-pare-by-manto-آتش-پارے-از-سعادت-حسن-منٹو","title":"Aatish Pare by Manto| آتش پارے از سعادت حسن منٹو","description":"\u003cp\u003eBook: Aatish Pare by Manto\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePrice: 300\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 82\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45591807230251,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/9789696401230_c707d49e-1904-465e-887a-6d8e55d2ef47.jpg?v=1758106368"},{"product_id":"siyah-hashiye-by-manto-سیاہ-حاشیے-از-سعادت-حسن-منٹو","title":"Siyah Hashiye by Manto| سیاہ حاشیے از سعادت حسن منٹو","description":"\u003cp\u003eBook: Siyah Hashiye by Manto\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePrice: 200\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages: 53\u003c\/p\u003e","brand":"Readings","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45591832592683,"sku":"","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/9789696401063.jpg?v=1687627169"}],"url":"https:\/\/bookshut.online\/collections\/urdu-novel-1.oembed?page=56","provider":"Books Hut","version":"1.0","type":"link"}