"کا کہنا ہے ’اس کی زندگی میں مرد آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس نے عشق کیے، محبتیں کیں لیکن یہ والہانہ عشق کبھی اس کے عشق ِ بشر پر حاوی نہ ہو سکے۔ دوست داری، دل داری اور نظریاتی رفاقت کا رشتہ صرف ساشا سے رہا۔ ساشا نے چودہ سال جیل میں گزارے تو وہ اس کا انتظار کرتی رہی، ساشا نفس اور جنس کے الجھاوں کا شکار ہوا تو وہ اس کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، اس کی بے اعتنائیوں سے زخمی ہوتی رہی، شکوہ کیے بغیر اس کے ناز اٹھاتی رہی۔ وہ کیسی سچی عورت تھی کہ اس نے اپنے کسی تعلق کو نہیں چھپایا اور اس کے حسن اور خوبصورتی کو بلا کم و کاست لکھا"
زاہدہ حنا

