{"product_id":"سرخ-رو-از-ایماگولڈن-living-my-life-by-emma-goldman","title":"سرخ رو از ایماگولڈن | Living my life by Emma Goldman","description":"\u003cp\u003eایما گولڈ مین کون تھیں؟ انھیں باغی اور انارکسٹ کیوں سمجھا جاتا تھا؟ ان دو بنیادی سوالوں کا مختصر اور سیدھا سا جواب یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ایک تھیں جو غیر روایتی ہوتے ہیں۔ روایتی لوگ مصلحت کوش ہوتے ہیں، اس لیے انھیں ہی عقل مند سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ نفع اور نقصان کی اصطلاحوں میں سوچتے اور سمجھتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eوہ بنے بنائے سانچوں میں رہنا چاہتے، نئے پن، تبدیلی اور اقدار کو چیلنج کرنا ان کے عقائد کے خلاف ہوتا ہے۔اسی لیے وہ ریاست اور اس کے بنائے ہوئے نظام اور طریقوں اور عقیدوں اور عقیدے بن جانے والے تصورات کے خلاف جانا تو کیا جانے کے خلاف جانے کی سوچنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ لیکن ایما گولڈمین کوکھ پر عورت کے اختیار کی کٹر حامی تھیں، یہ معاملہ تو اب تک بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہوتا ایما نے تو یہ معاملے لگ بھگ سوا سو سال پہلے اٹھایا تھا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eوہ جس بات کو درست سمجھتی تھیں اسے کہتی تھیں اور اس کے لیے کسی پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں اور اسی لیے عورتوں اور مردوں کو برابر سمجھتی تھیں اور یہ باتیں کرنے والی اظہار کی آزادی کی تو یقینًا حامی ہو گی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eوہ 1867 میں روس کے اس حصے میں پیدا ہوئی جو اب لیتھونیا کہلاتا ہے۔ پھر جب کوننگ برگ اور پیٹرس برگ گئیں تو یونیورسٹی کے انقلابیوں میں شامل ہو گئیں۔ یہاں سے وہ رشتے کی ایک بہن کے ساتھ نیویارک منتقل ہوئیں جہاں انھیں انارکسٹ تصورات کا حصہ بننے کا موقع ملا اور جلد ہی وہ امریکی انقلابیوں کے سرِفہرست لوگوں میں شمار ہونے لگیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہیں سے انارکزم پر ان کے لیکچرز اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ وہ صرف بنیادی سماجی تبدیلیوں کی حامی نہیں بلکہ وہ روایتی ڈرامے کے برخلاف نئے ڈرامے کی بھی حامی تھیں اور ابسن، سٹرینبرگ برنارڈ شا اور ان جیسے دوسرے ڈرامہ نگاروں کی بھی وکیل تھیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس کے علاوہ انھوں نے بےروزگاروں کو مشورہ دیا کہ اگر ان کی بات نہیں سنی جاتی تو وہ روٹی چھین لیں۔ وہ اپنے لیکچروں میں پیدائش پر اختیار کے بارے میں معلومات دیتی تھیں اور مزید یہ کہ فوجی بھرتیوں کی بھی مخالف تھیں۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں اور ان کے قریبی ساتھی الیگزنڈر برکمان (ساشا) کو سازش کا مجرم قراردے کر قید اور دس ہزار کے جرمانے کی سزا دی گئی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس کے دو سال بعد ایما اور ساشا اپنے دو سو سینتالیں ساتھیوں کے ساتھ روس منتقل ہو گئے لیکن وہاں جا کر انھیں اندازہ ہوا وہاں بھی اظہار کی آزادی اور اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں بھی انھیں جبری خاموشی اختیار کرنی پڑی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاب وہ برطانیہ آ گئیں۔ انھوں نے روس میں گزارے ہوئے اکیس ماہ کے بارے میں جو یادداشتیں لکھیں انھوں نے نہ صرف ایک تہلکہ مچا دیا بلکہ بہت سارے عقیدہ پرست سوشلسٹوں کو بھی ان سے ناراض کر دیا۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے انھوں نے کئی ملکوں کے دورے کیے اور لیکچر دیے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv class=\"module \"\u003e\n\u003cdiv class=\"box bx-quote has-title i-w304 i-h171\"\u003e\n\u003ch3 class=\"title\"\u003eوہ کیسی سچی عورت تھی\u003c\/h3\u003e\n\u003cdiv class=\"content\"\u003e\n\u003cdiv class=\"body\"\u003e\n\u003cblockquote\u003e\n\u003cp\u003e\u003cimg src=\"https:\/\/www.bbc.com\/staticarchive\/a66d4d5bfbdb62c2487f70fa991f8af52ad5f0aa.jpg\" width=\"304\" height=\"171\"\u003e\u003cspan class=\"start-quote\"\u003e\"\u003c\/span\u003eکا کہنا ہے ’اس کی زندگی میں مرد آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس نے عشق کیے، محبتیں کیں لیکن یہ والہانہ عشق کبھی اس کے عشق ِ بشر پر حاوی نہ ہو سکے۔ دوست داری، دل داری اور نظریاتی رفاقت کا رشتہ صرف ساشا سے رہا۔ ساشا نے چودہ سال جیل میں گزارے تو وہ اس کا انتظار کرتی رہی، ساشا نفس اور جنس کے الجھاوں کا شکار ہوا تو وہ اس کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، اس کی بے اعتنائیوں سے زخمی ہوتی رہی، شکوہ کیے بغیر اس کے ناز اٹھاتی رہی۔ وہ کیسی سچی عورت تھی کہ اس نے اپنے کسی تعلق کو نہیں چھپایا اور اس کے حسن اور خوبصورتی کو بلا کم و کاست لکھا\u003cspan class=\"end-quote\"\u003e\"\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/blockquote\u003e\n\u003cdiv class=\"person\"\u003e\n\u003cdiv class=\"person-info\"\u003e\n\u003cp class=\"name\"\u003eزاہدہ حنا\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp\u003eامریکہ کی شہریت کی منسوخی کے بعد زندگی میں وہ صرف ایک بار انتہائی مختصر وقت کے لیے امریکہ گئیں۔ ان کا انتقال 1940 میں کینیڈا میں ہوا جس کے بعد ان کی تدفین شکاگو کی مشہور ’ہے مارکیٹ‘ (Haymarket) کے قریب اور وہاں سپردِ خاک انارکسٹوں کے درمیان ہوئی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ اس ایما گولڈ مان کی زندگی کا مختصر سا، نامکمل سا اور بہت ساری ضروری تفصیلات سے خالی خاکہ ہے جسے امریکی اخبار سرخ ایما کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ سرخ ایما جو سرخ روس کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس ترجمہ کے لیے اردو کی معروف کالم اور افسانہ نگار زاہدہ حنا نے پونے پانچ صفحے کا انتہائی مناسب پیش لفظ لکھا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eان کا کہنا ہے ’اس نے ایک ایسی زندگی گزاری جس میں اس کا ایک قدم جیل کے اندر اور ایک باہر رہتا تھا۔ کسی تقریر کے بعد جب اسے اپنی گرفتاری کا یقین ہو جاتا تھا تو وہ اپنے بیگ میں کپڑوں کے دو جوڑوں کی بجائے کتاب رکھتی کہ اگر رات حوالات میں گزارنی پڑے تو وہ اسے پڑھنے میں گزار دے۔ ساری عمر وہ سفر میں ایک شہر سے دوسرے شہر ایک ملک سے دوسرے ملک اپنی تقریروں سے آگ لگاتی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eامریکہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک انقلابیوں کے دلوں کو گرماتی۔ محکمۂ خفیہ کے کارندوں کی ناک نیچے وہ بھیس بدل کر سٹیج پر پہنچ جاتی اور تمام پابندیوں کی دھجیاں اڑاتی۔ امریکہ، روس، ہالینڈ، انگلیڈ، فرانس اور ہسپانیہ وہ جہاں بھی گئی وہاں لوگوں کو جھنجھوڑتی رہی۔ انھیں یاد دلاتی رہی کہ زندگی اپنے اندر تما خابصورتیوں کے امکانات رکھتی ہے لیکن رب سرمایہ نے وہ تمام امکانات ان سے چھیں لیے ہیں‘۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزاہدہ حنا کا کہنا ہے ’اس کی زندگی میں مرد آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس نے عشق کیے، محبتیں کیں لیکن یہ والہانہ عشق کبھی اس کے عشق ِ بشر پر حاوی نہ ہو سکے۔ دوست داری، دل داری اور نظریاتی رفاقت کا رشتہ صرف ساشا سے رہا۔ ساشا نے چودہ سال جیل میں گزارے تو وہ اس کا انتظار کرتی رہی، ساشا نفس اور جنس کے الجھاوں کا شکار ہوا تو وہ اس کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، اس کی بے اعتنائیوں سے زخمی ہوتی رہی، شکوہ کیے بغیر اس کے ناز اٹھاتی رہی۔ وہ کیسی سچی عورت تھی کے اس نے اپنے کسی تعلق کو نہیں چھپایا اور اس کے حسن اور خوبصورتی کو بلا کم و کاست لکھا‘۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ تمام باتیں ’سرخ رو‘ کو پڑھنے کے لیے لازمی بناتی ہیں پھر محمد مظاہر کا ترجمہ اتنا رواں ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eلیکن ایک انتہائی اہم بات تو رہ ہی گئی۔ ایما نے شادیاں کیں لیکن کوئی بچہ پیدا نہیں کیا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ سمجھتی تھیں عورت کی کوکھ پر اختیار عورت کو ہونا چاہیے مرد کو نہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایما نے جب ’مدر ارتھ‘ نامی جریدہ نکالا تو اسے اپنی اولاد سمجھا اور اس کی تعریفوں پر وہی خوشی محسوس کی جو عورت کو اپنی اولاد کی تعریف پر محسوس ہوتی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو ایک آزاد انسان بنانے کے خواہش مند والدین کو یہ کتاب اپنی بیٹیوں کو ضرور پڑھانی چاہیے\u003c\/p\u003e","brand":"City book point","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52253532881195,"sku":null,"price":3300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/rn-image_picker_lib_temp_a7645131-5636-4536-b5c5-828c0a876a13.jpg?v=1771684655","url":"https:\/\/bookshut.online\/products\/%d8%b3%d8%b1%d8%ae-%d8%b1%d9%88-%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%da%af%d9%88%d9%84%da%88%d9%86-living-my-life-by-emma-goldman","provider":"Books Hut","version":"1.0","type":"link"}