پرانی محفلیں یاد آ رہی ہیں از عبداللہ ملک
پرانی محفلیں یاد آ رہی ہیں از عبداللہ ملک
Couldn't load pickup availability
100 in stock
عبد اللہ ملک 10 اکتوبر 1920ء کو اندرون شہر لاہور کے ایک تاریخی محلہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل کی ، کالج کے زمانے میں ادبی صحافتی اور سیاسی محاذ پر فعال ہو گئے۔ چنانچہ ایک طرف وہ اسلامیہ کالج کے میگزین کریسنٹ کے مدیر رہے اور دوسری طرف وہ نو جوانان مجلس احرار میں بھی کچھ عرصہ متحرک رہے اور ان کی سالانہ کانفرنس کے صدر بھی رہے۔ پھر کمیونسٹ پارٹی میں شریک ہو گئے اور پارٹی کے اخبارات لاہور اور ممبئی میں سرگرم رہے۔ ممبئی کے پارٹی اخبار ” قومی جنگ میں وہ سجاد ظہیر ، سید سبط حسن اور سردار جعفری کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے ساتھ 30 برس تک منسلک رہے۔ ترقی پسندی اور بنا بائیں بازو کے افکار کی بنا پر متحدہ ہندوستان اور پاکستان میں کئی بار ان کو جیل اور شاہی قلعہ کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے علمی، ادبی، سیاسی ، سفرناموں پر مشتمل تقریباً 38 سال کتا بیں لکھیں۔ ان میں فوج اور اقتدار اعلیٰ کے سلسلے کی چار کتا ہیں اپنی نوعیت کی واحد مثال ہیں۔ اس موضوع پر آج تک کسی نے تحقیقی کام نہیں کیا۔
حدیث دل کے عنوان سے پہلے روزنامہ پاکستان میں کالم نگاری کی ۔ پھر آخری وقت تک روزنامہ نوائے وقت میں لکھتے رہے۔ ان کے کالموں میں تحریک اور تاریخ کے پھوارے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ پچھلی چھ دہائیوں کے دوران پاکستان میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں انہوں نے عالمی ، سیاسی منظر نامے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھی بغور مطالعہ کیا۔ بالآخر تاریخ کے اوراق میں شعور کی کرنیں بکھیرنے والے ترقی پسند دانشور اور محقق عبد اللہ ملک 10 اپریل 2003ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی آخری آرام گاہ جی بلاک ماڈل ٹاؤن قبرستان میں ہے
