{"product_id":"ratti-by-zafar-syed-رتی-از-زیف-سید","title":"Ratti by Zafar syed | رتی از زیف سید","description":"\u003cp\u003e’رتی‘ پر حامد میر کا تبصرہ جو آج کے جنگ میں چھپا ہے۔ میر صاحب کے شکریے کے ساتھ جنہوں نے ناول صرف دو دن میں نہ صرف پڑھ بھی لیا بلکہ اس پر تبصرہ بھی لکھ دیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول خریدنے کے لیے پہلے کمنٹ میں دیے گئے لنک پر کلک کریں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرتی\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ ایک بہت حسین اور امیر لڑکی کی داستان محبت ہے جس نے 18 سال کی عمر میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی۔ اس لڑکی کے خاوند کو تو ساری دنیا جانتی ہے لیکن اس لڑکی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں کیونکہ وہ صرف 29 سال کی عمر میں اپنی سالگرہ کے دن اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس لڑکی کا نام رتن بائی اور اس کے خاوند کا نام محمد علی جناح تھا جو پاکستان میں قائد اعظم اور بابائے قوم کہلاتے ہیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eرتن بائی قیام پاکستان سے 18 سال قبل 20 فروری 1929 ء کو انتقال کر گئی تھیں اگر وہ زندہ رہتیں تو شائد مادر ملت کا لقب محترمہ فاطمہ جناح کی بجائے انہیں ملتا ۔ انکی وفات کے وقت قائد اعظم کی عمر 52 سال تھی لیکن انہوں نے دوسری شادی نہیں کی ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقائد اعظم اور رتن بائی کی محبت کی اس کہانی پر زیف سید نے \"رتی\" کے نام سے ایک ناول لکھا ہے ۔ رتن بائی کو پیار سے رتی کہا جاتا تھا اس لئے ناول کا نام بھی رتی ہے ۔ اس ناول کے اکثر کردار حقیقی ہیں۔ لیکن کچھ کردار فرضی بھی ، تاہم کوشش کی گئی ہے کہ فرضی کرداروں کو تاریخی سچائیوں کے قریب رکھا جائے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eیہ ناول صرف رتی نہیں بلکہ قائد اعظم کی شخصیت کے بھی کچھ ایسے پہلو اُجاگر کرتا ہے جو صرف عام لوگوں سے نہیں بلکہ کئی تاریخ دانوں سے ابھی تک مخفی ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eناول میں رتی کی کچھ نظمیں شامل ہیں کیونکہ وہ شاعرہ بھی تھیں اور کبھی کبھی اخبارات میں بھی لکھتی تھیں ۔ ناول کا آغاز 15 اگست 1947 ء کی شام سے ہوتا ہے جب قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اُٹھایا۔حلف اُٹھانے کے بعد قائد اعظم نے سر غلام حسین ہدائت اللہ کو بلایا اور اُن کے کان میں کچھ کہا۔ سر غلام حسین ہدائت اللہ فوری طور پر وہاں موجود موسیقار کین میک کےپاس جاتے ہیں جو اپنے طائفے کے ساتھ دو گھنٹے پہلے ٹاٹا ایئر لائنز کی خصوصی پرواز کے ذریعے بمبئی سے کراچی پہنچا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکین میک تک قائد اعظم کی فرمائش پہنچ جاتی ہے اور پھر کلاسیکل موسیقارفریدرک شوپاں کی ایک مشہور طرز پرمبنی گیت so deep in the night کی دُھن بجائی جاتی ہے۔یہ وہ گیت تھا جو رتی کو بہت پسند تھا اور وہ بمبئی کے تاج محل ہوٹل کے آرکسٹرا سے اکثر اس گیت کی موسیقی سنا کرتی تھیں ۔ 15 اگست 1947 ء کو اُسی آرکسٹرا کو کراچی بلایا گیا تھا۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کی خوشی میں رتی کی یاد کو بھی شامل کر لیا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزیف سید نے اس موقع پر قائد اعظم کی طرف سے گورنرجنرل کے طور پر پڑھے جانے والے حلف کی جو عبارت اپنے ناول کا حصہ بنائی ہے وہ متنازع ہے ۔ قائد اعظم نے تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اُٹھانے کی بجائے حلف کی عبارت کو تبدیل کر دیا تھا ۔ تحریک پاکستان کے کئی محققین کا دعویٰ ہے کہ قائد اعظم نے دراصل اس نافذ العمل آئین پاکستان سے وفاداری کا حلف اُٹھایا تھاجو بنایا جانا تھا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eبہر حال حلف کی اس تقریب کے بعد زیف سید ہمیں رتی اور جناح کی داستان محبت کی طرف لے جاتے ہیں جس میں کئی ڈرامائی اُتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ رتی کا تعلق ایک پارسی خاندان سے تھا۔محبت میں پہل اُنکی طرف سے ہوئی تھی اسی لئے عمر کے فرق کے باوجود قائداعظم ان سے شادی پر راضی ہوئے۔1916 ء میں جب پہلی دفعہ قائد اعظم نے اُن کے والد ڈنشا پٹیٹ سے رتی کا ہاتھ مانگا تو رتی کے والد نے قائد اعظم کو اپنے گھر سے نکال دیا تھا ۔ 1917 میں ڈنشا پٹیٹ نے عدالت سے ایک حکم امتناعی حاصل کیا اور قائد اعظم کو رتی کے اٹھارہ سال کے ہونے تک ملنے سے روک دیا ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e20 فروری 1918 کو رتی اٹھارہ کی ہو گئیں تو اُنہوں نے تاج محل ہوٹل بمبئی میں اپنی سالگرہ کا اہتمام کیا۔اس موقع پر رتی نے فریدرک شوپاں کی موسیقی پر قائد اعظم کے ساتھ رقص کیا - 18 اپریل 1918 ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد میں اسلام قبول کیا۔ اُن کا اسلامی نام مریم رکھا گیا ۔ 19 اپریل 1918 ء کو شادی ہوئی اور نکاح کے بعد قائد اعظم نے اپنا بمبئی والا گھر دلہن کو تحفے میں دیدیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e20 اپریل 1918 ء کو ڈنشا پٹیٹ نے اپنے انگریز وکیل سٹرنگ مین کے مشورے پر قائد اعظم کے خلاف بیٹی کے اغواء کا مقدمہ دائر کر دیا ۔ جیسے ہی عدالت میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو رتی کھڑی ہو گئیں اور انہوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا\" مائی لارڈ ! مسٹر جناح نے مجھے اغواء نہیں کیا، در حقیقت میں نے انہیں اغواء کیا ہے ۔ \" رتی کے اس اعلان کے ساتھ ہی یہ مقدمہ ختم ہو گیا لیکن پارسی اخبارات اور کچھ مسلمان علماء نے قائد اعظم کے خلاف نفرت کا طوفان برپا کرنے کی کوشش کی ۔ کچھ مسلمان اخبارات نے قائد اعظم کا دفاع کیا لیکن جن مسلمان اخبارات نے قائد اعظم پر جھوٹے الزامات لگائے اُن کا ذکر زیف سید نے اپنے ناول میں نہیں کیا ۔ شائد ناول کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں لیکن قائد اعظم کی اس شادی کو متنازعہ بنانے کیلئے جن مسلمانوں نے کم ظرفی دکھائی اُن کی تفصیل خواجہ رضی حیدر کی انگریزی کتاب \" رتی جناح \" میں موجود ہے -\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک بھارتی مصنفہ شیلا ریڈی نے بھی 2017 میں \" مسٹر اینڈ مسز جناح \" کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں محترمہ فاطمہ جناح کو رتی اور قائد اعظم میں اختلاف کی وجہ ثابت کرنے کی کو شش کی ۔ زیف سید کے ناول میں موجود تاریخی واقعات شیلا ریڈی کو غلط ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eخاوند اور بیوی میں اختلاف کوئی انہونی چیز نہیں ہے ۔ اختلاف کے باوجود رتی کو قائد اعظم سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں پیار سے جے کہتی تھیں ۔ قائد اعظم اپنی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے انہیں زیادہ وقت نہ دے پاتے جس پر وہ شکوہ کیا کرتیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایک دفعہ رتی اپنے خاوند کے ساتھ دلی آئیں اور ساتھ میں ایک پالتو بلی کو بھی لے گئیں جس کا نام کاجل تھااورجس سے رتی کو بہت محبت تھی ۔ یہاںرتی کی بلی گم ہو گئی، اسےبہت ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہ ملی، اس دوران قائد اعظم کی بمبئی واپسی کا وقت ہو گیا۔ اگلے دن اُنہیں ہائی کورٹ میں پیش ہونا تھا ۔ رتی اپنی بلی کے بغیر واپس جانے سے انکاری تھیں۔ لہٰذا قائداعظم اپنی مجبوری کی وجہ سے رتی کو دلی چھوڑ کر بمبئی واپس چلے گئے۔پھر رتی پیرس چلی گئیں اوروہاں بیمار پڑ گئیں ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقائد اعظم انکی تیمار داری کیلئے پیرس پہنچے ۔ ایک مہینہ اُن کے پاس رہے ۔ پیرس سے واپسی پر بحری جہاز سے 5 اکتوبر 1928 ء کو رتی نے انہیں ایک خط لکھا\"جو کچھ آپ نے میرے لئے کیا اس سب کا بہت شکریہ ۔ اگر کبھی میرے رویے میں آپکی حساس طبیعت نے کوئی چڑچڑا پن یا بے رخی محسوس کی ہو تو یقین جانئے کہ میرے دل میں آپ کے لئے صرف اور صرف انتہا درجے کی نرمی اور محبت تھی\"۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e25 دسمبر 1928 ء کو قائد اعظم کی سالگرہ کے دن رتی نے تاج محل ہوٹل بمبئی میں ظہرانے کا اہتمام کیا ۔ 17 فروری 1929کو رتی دوباره بیمار پڑگئیں اور 20 فروری 1929 کو اپنی 29 ویں سالگرہ کے دن دنیا سے رخصت ہو گئیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجب رتی کو بمبئی کے علاقے مز گاؤں (آرام باغ )کے ایک مسلم قبرستان میں دفن کیا گیا تو اپنی محبت کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے قائد اعظم پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس ناول کے آخر میں 29 اگست 2012 ء کوممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جس تاج محل ہوٹل میں رتی کی محبت پروان چڑھی اُس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور جس مزگاؤں میں رتی دفن ہیں وہاں بھی بم دھماکہ کیا گیا ۔\u003c\/p\u003e","brand":"Bookshut","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52253644194091,"sku":null,"price":1075.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/rn-image_picker_lib_temp_4fce01e2-24e6-49f0-9eb5-70dae8e4b83e.jpg?v=1772440656","url":"https:\/\/bookshut.online\/products\/ratti-by-zafar-syed-%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%b2-%d8%b2%db%8c%d9%81-%d8%b3%db%8c%d8%af","provider":"Books Hut","version":"1.0","type":"link"}