{"product_id":"zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-زندگی-زنداں-دلی-کا-نام-ہے","title":"ZINDAGI ZINDAN DILI KA NAAM HAI by  ZAFAR ULLAH POSHNI \/ زندگی زنداں دلی کا نام ہے","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eلذیذ حکایت کو دراز تر کرنا تو محاورہ بھی ہے اور رسمِ دنیا بھی، لیکن اگر کوئی پوچھے کہ جیل خانے اور اسیری کی حکایت لذیذ کیسے ہو سکتی ہے تو انھیں سابق کپتان ظفر اللہ پوشنی کی یہ کتاب پڑھنے کو دیجیے۔ اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ظفر اللہ پوشنی سمیت کچھ چھوٹے بڑے فوجی افسر اور اس خاکسار سمیت تین غیر فوجی لوگ اور ایک خاتون ان وقتوں کے ایک شہرۂ آفاق مقدمے میں ماخوذ ہوئے،جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واحد مقدمے کے لیے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے ایک خاص قانون وضع کیا، ایک خاص عدالت قائم ہوئی جس کی کارروائی اب تک پردۂ راز میں اس لیے ہے کہ اس قضیے میں ہر فریق، مصنف، وکیل، گواہ، عدالت کے پیش کار وغیرہ وغیرہ، غرض ہر کوئی قانونی طور سے راز داری کا پابند کیا گیا تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے اپنی کتاب میں مصلحتاً اس راز کی پردہ کشائی تو مناسب نہیں سمجھی، البتہ اس امر کی وضاحت بہت تفصیل سے کی ہے کہ ہم ملزمین کی نظر میں اس دفترِ ملامت کی وقعت کیا تھی اور ہمارے شب و روزِ اسیری میں اس مضحکہ خیز ڈرامے کے کردار اداکاری کے کیا جو ہر دکھاتے رہے تھے۔ اس عجیب و غریب سازش کا ایک نادر پہلو تو یہی تھا کہ ہم میں سے بیشتر لوگ باہم صورت آشنا بھی نہیں تھے اور ہم میں سے کچھ کی ملاقات پہلی بار جیل خانے ہی میں ہوئی۔ ظفر اللہ پوشنی سے بھی میری وہیں شناسائی ہوئی... ایک لا ابالی بے فکر، کھلنڈرا نوجوان جسے ڈنٹر پیلنے، گلا پھاڑنے اور انگریزی کے فحش گانے گانے کے علاوہ بظاہر بقیہ کاروبارِ زندگی سے کوئی سروکار ہی نہ تھا، البتہ ذہن طرار ملا تھا اور زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔ جیل خانے کی طویل ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردۂ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ پوشنی نے منظر کشی کے ساتھ کہیں کہیں کامنٹری بھی کی ہے، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اس حکایت کی لذت آفرینی سے شاید ہی کوئی پڑھنے والا انکار کر سکے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eفیض احمد فیض\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمارچ 1972ء\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e---\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Book corner","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52250014089515,"sku":null,"price":1375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0764\/3077\/0475\/files\/69747e23ba86d1769242147.jpg?v=1771524792","url":"https:\/\/bookshut.online\/products\/zindagi-zindan-dili-ka-naam-hai-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%d8%a7%da%ba-%d8%af%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a7%d9%85-%db%81%db%92","provider":"Books Hut","version":"1.0","type":"link"}