میرے بچپن کے دن از انطویوتوریس | Meray bachpan kay din
میرے بچپن کے دن از انطویوتوریس | Meray bachpan kay din
Couldn't load pickup availability
Low stock: 10 left
میرے بچپن کے دن (ایک پوری نسل کا نوحہ)
مصنف: انطونیو توریس
مترجم: ہما انور
کچھ مصنف کے بارے میں۔۔۔۔
انطونیو توریس(Antônio Torres) برازیل کے عصر ِ حاضر کے ممتاز ترین ادیبوں میں سے ایک ہیں۔ وہ برازیل کے ایک غربت زدہ قصبے جَنکو (Junco)میں پیدا ہوئے، جو آج Sátiro Dias کہلاتا ہے۔ یہ برازیل کی شمال مشرقی ریاست باہیا میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ انہوں نے پہلے Alagoinhas اور پھر سلوادور میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کم عمری ہی میں سلوادور کے اخبار Jornal da Bahia میں بطور کرائم رپورٹر کام شروع کردیا۔ بعد ازاں وہ ساؤ پاؤلو چلے گئے، جہاں انہوں نے Ultima Hora اخبار کے لیے سپورٹس رپورٹر کے طور پر کام کیا۔1965ء میں، یعنی برازیل میں فوج کے اقتدار میں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد، وہ پرتگال چلے گئے۔ وہ تقریباً تین سال یعنی 1968ء تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران پرتگال میں پہلے ہی فوجی آمریت قائم تھی۔1968ء میں برازیل واپسی کے بعد انہوں نے صحافت چھوڑ دی اور ریو ڈی جنیرو میں ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں کام کرنے لگے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے اپنے ادبی سفرکا آغاز کیا۔
1972ء میں ان کا پہلا ناول A Dog Howling at the Moon شائع ہوا۔ اس ناول نے ایسے دور میں بہت گہرا اثر چھوڑا جب برازیل میں شدید سیاسی جبر، خوف اور پابندیاں عروج پر تھیں۔ 1973ء میں ان کا اگلا ناول The Men with Round Feet شائع ہوا جس میں پرتگال میں گزرے ان کے تین سال کے تجربات کی جھلک نظر آتی ہے۔ اپنے تیسرے ناول Essa Terra ’’سرزمین‘‘ (1976ء) میں وہ اپنے آبائی علاقے بیک لینڈز/سرتاؤ کی طرف واپس آتے ہیں۔ وہ ایسے بیک لینڈز کے بارے میں لکھتے ہیں جو سپرہائی ویز اور رنگین ٹی وی کے آنے کے بعد کا ہے...یعنی ایک بالکل مختلف دنیا کے متعلق۔ان کے ناول Essa Tera/The Landکو عوام اور ادبی ناقدین دونوں کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی۔ اسے عصرِ حاضر کے برازیلی ادب کی ایک کلاسیک تخلیق سمجھا جاتا ہے۔ برسوں بعد، اسی ناول کے کرداروں کو لے کر انہوں نے مزید دو ناول Yong Dog Old Wolf اور Through the eye of the needle تحریر کیے۔
’’میرے بچپن کے دن‘‘ انطونیو توریس کے ناول Blues for a Lost Childhood کا اردو ترجمہ ہے، جو 1986ء میں پرتگالی زبان میں Balada da Infância Perdida کے عنوان سے تحریر کیا گیا تھا۔ ناول میں مصنف کی زندگی کے کئی خودنوشت پہلو بھی شامل ہیں۔ یہ ناول ایک پوری نسل کے ذہن اورداخلی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ناول گزرے ہوئے وقت، بکھرتی شناخت اور بدلتی ہوئی زوال پذیر دنیا کا پُراثر نوحہ ہے۔
انطونیو توریس کی ادبی زندگی جاری ہے۔ وہ سترہ سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں سے بیشتر ناول ہیں۔ انہوں نے برازیل پر تین تاریخی ناولوں کا ایک سلسلہ بھی تحریر کیا۔ ان میں سے ایک2000ء میں شائع شدہ My Dear Cannibal ہے، جس میں برازیل کے مقامی/قدیم باشندوں کے بارے میں برازیلی رویوں کا ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بچوں کے لیے ادب اور کرونیکلز بھی لکھے۔ 1987ء میں Blues for a Lost Childhood پر PEN کلب آف برازیل پرائز جیتنے کے بعد انہیں دیگر کئی ادبی اعزازات بھی ملے، جن میں 1998ء میںFrench Chevalier des Arts et des Lettres، 1997ء میں برازیلین یونین آف رائٹرزکے انعامات، مجموعی ادبی خدمات پر 2000ء میں Machado de Assis prize،نیز ان کے ناول My Dear Cannibalپر 2007ء میں Prêmio Jabuti، 2016ء میں شہر کے قیام کے 450سالہ جشن کے موقع پر Rio de Janeiro City Grand Prize، 2018ء میں پیٹروپولس اکیڈمی آف لیٹرز کی طرف سے Prêmio João Roberto d’Escragnolle شامل ہیں۔
انطونیو توریس کے ناول برازیلی ادب کا شاہکار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ 2013ء میں انہیں چیئر آف برازیلین اکیڈمی آف لیٹرز کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس طرح وہ اپنے ملک کے ان ممتاز ادیبوں میں شامل ہوگئے جنہیں علامتی طور پرImmortals یعنی لافانی قرار دیاجاتا ہے۔
Price: 980
آڈر کرنے کے لیے 03019597933 پر وٹس ایپ میسج کریں۔
