کشمیر کا المیہ از عبدالحق سہروردی | Tragedy of kashmir by abdulhaq suharwardi
Pickup currently not available
Reliable shipping
Flexible returns
Details
اس کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کی حکومت ہونے کے با وجود کشمیر تقسیم ہند کے وقت یعنی 1947 ء میں پاکستان میں کیوں شامل نہ ہو سکا۔ اصل قصہ یہ ہے کہ شیخ عبد اللہ اور جواہر لال نہرو کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس کے پیچھے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ، لیڈی مونٹ بیٹن اور نہرو پرمشتمل ایک سازشی گٹھ جوڑ کار فرما تھا۔مسٹر گاندھی بظاہر کشمیر کی سیاحت کے لیے گئے لیکن وہ مہاراجہ ہری سنگھ کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر ذہن تبدیل کرنے میں کام یاب رہے۔ مسلم اکثریت کے اضلاع گورداس پور اور بٹالہ کوانڈیا کے حوالے کر دیا گیا تا کہ وہ سڑک کے ذریعے ایسا رابطہ قائم کر سکے جو اس سے پہلے موجود نہیں تھا۔ کشمیری راہنماؤں کا المیہ یہ ہے کہ شیخ عبداللہ نے اپنی کوتاہ نظری کی بنا پر ہندوستان کے کشمیر پر قبضے کے جائز ہونے پر مہر ثبت کر دی ۔ لیکن آخر میں قبائلی عوام اور پونچھ کے سابق فوجیوں کی دلیرانہ جدو جہد ان علاقوں کو آزاد کرانے میں کام یاب رہی جنھیں آج ہم آزاد جموں و کشمیر کے نام سے جانتے ہیں، اور جس میں گلگت اور بلتستان بھی شامل ہیں ۔ پاکستانی قیادت کے عدم تعاون اور دو جنگ جو دوسروں نے لڑی میں پاکستان کی طرف سے سیز فائر کو تسلیم کرنا بہت مہنگا پڑا ۔ اس کتاب میں ان حقائق کا سراغ بھی ملتا ہے جن کی وجہ سے کشمیری جو سلطان شہاب الدین کے زمانے میں لڑا کا جنگجو اور دلیر ہوا کرتے تھے، وہ دو سو سال کے طویل سکھ عہد میں مسلسل قلم و جبر کے اتنے کمزور کسی طرح ہو گئے؟ تاہم 1930ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف مقامی سیاسی تحریک منظم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر کشمیر مسلم کانفرنس بھی وجود میں آئی ۔ کشمیری مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا جو بعد میں شیخ عبداللہ کی قیادت میں غیر مقبول نیشنل کانفرنس اور اور مقبول مسلم کا نفرنس ، جس کے پاس قیادت کا فقدان تھا، میں تقسیم ہوگئی ۔ اس کتاب سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مسٹر نہرو نے شیخ عبداللہ کو ایک خاص مقصد کے لئے چنا اور اُس کی شخصیت کو کرشماتی اور دیو مالائی بتانے میں کس کس طرح اس کی مدد کی اور اُسے کشمیری لیڈر کے طور پر منوایا کہ جیسے وہ کشمیریوں کا نجات دہندہ ہو۔ اس کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم کیے اور آخر کار اسے انڈیا کے ساتھ الحاق پر راضی کر لیا۔ اس کتاب سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ ریڈ کلف کمیشن کو شامل کر کے اس پیرائے میں سازشیں کرتے ہوئے مجوزہ حد بندیوں کو تبدیل کیا گیا اور کس طرح مسٹر نہرو نے اس ساری صورت حال کا بندو بست کیا۔ اس مرحلے پر یہ حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ مسٹر جواہر لال نہرو خود بھی کشمیری تھے ۔ نہ صرف کشمیری بلکہ ہندو برہمن بھی تھے، لہذا اس کی تحریک اور اسے حاصل کرنے کا جذبہ ان کے دل میں موج زن تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ یہ خوشامدی بھارتی قیادت اور ملکہ کے انڈیا میں نمائندے کی زبردست چالاکی کاور چال بازی کا عملی نمونہ تھا
Shipping + Returns
We strive to process and ship all orders in a timely manner, working diligently to ensure that your items are on their way to you as soon as possible.